پمز میں 14 بچوں کی موت کا اصل ذمہ دار کون؟
اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے ہولناک سانحے پر تحقیقاتی عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین انکوائری کمیٹی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 4 اعلیٰ انتظامی افسران سے تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔ انکوائری کمیٹی نے حکام سے سوال کیا ہے کہ آتشزدگی کا یہ خوفناک واقعہ دراصل کیسے پیش آیا، اس کی اصل وجوہات کیا تھیں اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے کیا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے؟ افسران کو آج صبح 8 بجے تک اپنے بیانات جمع کروانے کا پابند کیا گیا تھا۔
دوسری جانب سانحے کے بعد انتظامی امور میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ نئے وفاقی سیکریٹری ہیلتھ کیپٹن (ر) محمود رائے نے رات گئے پمز اسپتال کے باہر ہنگامی طور پر ٹینٹ قائم کروا دیا ہے، جہاں لائٹنگ، پنکھوں اور کرسیوں کا فوری انتظام کیا گیا ہے۔
وفاقی سیکریٹری ہیلتھ نے اعلان کیا ہے کہ وہ خود روزانہ اس کیمپ میں بیٹھ کر پمز کے انتظامی امور کا جائزہ لیں گے، اسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی نگرانی کریں گے اور شدید غم و غصے کا شکار شہریوں اور متاثرہ خاندانوں کی شکایات براہ راست سن کر موقع پر ہی حل نکالیں گے۔