مواد پر جائیں

کوئٹہ 17°C فجر 5:27 ظہر 12:16 عصر 4:06 مغرب 5:43 عشاء 7:04
آج کا ای پیپر ⁦4⁩ نومبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی حق خودارادیت کی تحریکوں کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، پاکستان

عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی غیر شفاف پالیسیوں پر تشویش، مصنوعی ذہانت کے لیے شفاف عالمی نظام اور نفرت انگیز مواد کی روک تھام کا مطالبہ

نیویارک: پاکستان نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش، سنسرشپ اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے حق خودارادیت کی جائز تحریکوں کو دبانے اور عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی حق خودارادیت کی تحریکوں کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، پاکستان

اقوام متحدہ میں پاکستان کے پریس قونصلر امانت علی نے جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی برائے خصوصی سیاسی اور نوآبادیاتی امور کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے ذریعے اختلافی آوازوں کو خاموش اور زمینی حقائق کو مسخ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پاس اختیارات کا غیر معمولی ارتکاز تشویش ناک ہے، جبکہ ان کے غیر شفاف الگورتھمز اور مواد سے متعلق پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر معلومات کی ترسیل اور عوامی مباحثے متاثر ہورہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں اور تنازعات سے متاثرہ خطوں میں انٹرنیٹ کی بندش، ڈیجیٹل نگرانی، سنسرشپ اور سخت میڈیا قوانین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے اور حق خودارادیت کی جدوجہد کو غیر معتبر بنانے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔

امانت علی نے خبردار کیا کہ غلط معلومات، گمراہ کن پروپیگنڈا اور نفرت انگیز مواد اب محض ابلاغی مسائل نہیں رہے بلکہ معاشروں میں تقسیم پیدا کرنے، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے اور تنازعات کے دوران رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے ذرائع بن چکے ہیں۔

انہوں نے اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات اور بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی علم میں اضافے اور ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اس کا غلط استعمال بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور معلومات کی ساکھ متاثر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شفاف اور مؤثر عالمی نظامِ حکمرانی قائم کرنے پر زور دیا تاکہ ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال اور جواب دہی کو یقینی بنایا جاسکے۔

امانت علی نے اقوام متحدہ کے شعبہ عالمی مواصلات سے مطالبہ کیا کہ کثیراللسانی نظام کے فروغ کے لیے مزید وسائل مختص کیے جائیں تاکہ اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں کے درمیان معلومات کی دستیابی میں موجود فرق کم ہوسکے۔

انہوں نے مستند اور متوازن معلومات کی فراہمی کے لیے اقوام متحدہ کے مقامی اطلاعاتی مراکز کی خدمات سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔