مواد پر جائیں

کوئٹہ 17°C فجر 5:27 ظہر 12:16 عصر 4:06 مغرب 5:43 عشاء 7:04
آج کا ای پیپر ⁦4⁩ نومبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بزنس

چین کا جدید سولر ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندیوں کا منصوبہ، پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟

چین کی 12 جدید شمسی ٹیکنالوجیز کی برآمدات محدود کرنے کی تجویز، تیار شدہ سولر پینلز کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی، ماہرین

اسلام آباد: چین نے جدید شمسی ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندیاں اور نئی شرائط عائد کرنے کا منصوبہ پیش کردیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس سے پاکستان سمیت سولر پینلز درآمد کرنے والے ممالک پر فوری طور پر کوئی بڑا اثر پڑنے کا امکان نہیں۔

چین کا جدید سولر ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندیوں کا منصوبہ، پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟

ویلتھ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارتِ تجارت نے 16 اکتوبر کو ٹیکنالوجی کی برآمدات سے متعلق قواعد میں تبدیلی کی تجویز جاری کی تھی، جس میں مصنوعی ذہانت اور بائیوٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔

مجوزہ منصوبے کے تحت شمسی توانائی کی تیاری میں استعمال ہونے والی 12 جدید ٹیکنالوجیز کی برآمدات کو محدود یا ممنوع قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم تیار شدہ سولر پینلز کی برآمدات پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

منصوبے میں پیرووسکائٹ اور دوہری تہوں والے شمسی خلیوں، مخصوص باریک سلیکان ویفرز اور پولی سلیکان کی تیاری کی بعض جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ٹی او پی کون، ہیٹروجنکشن اور ایکس بی سی جیسی جدید شمسی ٹیکنالوجیز کی برآمدات پر مکمل پابندی کے بجائے لائسنسنگ اور دیگر شرائط عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

چینی وزارتِ تجارت کے مطابق جدید شمسی ٹیکنالوجیز کا فضائی اور دفاعی صنعتوں میں بڑھتا ہوا استعمال ان کی برآمدات کی نگرانی سخت کرنے کی ایک اہم وجہ ہے۔

مجوزہ ضابطوں پر عوامی مشاورت 15 نومبر تک جاری رہے گی، جس کے بعد حتمی قواعد مرتب کیے جانے کی توقع ہے۔

پاکستان میں سولر پینلز کی فراہمی متاثر ہوگی؟

نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) سے پی ایچ ڈی کرنے والے اور چین کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ محقق محمد زید مسعود خان نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ نئی پابندیوں سے پاکستان میں سولر پینلز کے عام استعمال پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

ان کے مطابق مجوزہ اقدامات تیار شدہ سولر پینلز پر لاگو نہیں ہوں گے، اس لیے پاکستان میں سولر پینلز کی درآمد اور مقامی سطح پر ان کی اسمبلنگ کا عمل بڑی حد تک جاری رہ سکے گا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت وہ ممالک جو جدید شمسی خلیوں، ویفرز اور پولی سلیکان کی تیاری کے کارخانے قائم کرنا چاہتے ہیں، انہیں ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اضافی لائسنسنگ شرائط پوری کرنا پڑ سکتی ہیں۔

محقق کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت مشترکہ صنعتی منصوبے اور حکومتی تعاون پاکستان میں شمسی توانائی کی مقامی صنعت کو فروغ دینے کے اہم مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔

عالمی سولر صنعت میں چین کی مضبوط پوزیشن

انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس کے مطابق چین شمسی توانائی کی مصنوعات کی تیاری کے مختلف مراحل میں عالمی پیداواری صلاحیت کے 80 فیصد سے زیادہ حصے کا حامل ہے۔

برطانوی توانائی تحقیقی ادارے ایمبر کے مطابق مارچ میں چین کی شمسی مصنوعات کی برآمدات ریکارڈ 68 گیگاواٹ تک پہنچ گئی تھیں، تاہم بعد کے مہینوں میں ان کی رفتار کم ہوئی۔

رائٹرز کے حوالے سے پیش کردہ کسٹمز اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں چین کے شمسی آلات کی برآمدات گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 6.4 فیصد کم ہوئیں، جبکہ رواں سال کے دوران مجموعی کمی 9.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق عالمی شمسی صنعت میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ مختلف ممالک تیار شدہ پینلز درآمد کرنے کے بجائے چینی پرزہ جات استعمال کرکے مقامی سطح پر سولر ماڈیولز تیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

نئے ضابطوں کے فوری اثرات محدود رہنے کا امکان

توانائی کے تحقیقی ادارے کلائمیٹ انرجی فنانس کے ڈائریکٹر ٹم بکلی کے مطابق مجوزہ پابندیوں کے فوری تجارتی اثرات محدود رہنے کا امکان ہے کیونکہ بعض جدید ٹیکنالوجیز ابھی بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار کے مرحلے تک نہیں پہنچی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سولر پینلز کی پیداواری صلاحیت پہلے ہی طلب سے زیادہ ہے، اس لیے آئندہ چند برسوں میں مزید بڑے کارخانے قائم کرنے کی فوری ضرورت محدود رہ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیار شدہ سولر پینلز کی مسلسل دستیابی قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی، تاہم مقامی سطح پر جدید سولر ٹیکنالوجی کی صنعت قائم کرنے کے لیے چین کے ساتھ منظم تکنیکی تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدوں کی ضرورت ہوگی۔

چین کی جانب سے 15 نومبر تک عوامی مشاورت مکمل ہونے کے بعد حتمی ضابطے واضح کریں گے کہ جدید شمسی ٹیکنالوجی کی برآمدات اور عالمی صنعتی تعاون کن شرائط کے تحت جاری رہیں گے۔