مواد پر جائیں

کوئٹہ 20°C فجر 5:27 ظہر 12:16 عصر 4:06 مغرب 5:43 عشاء 7:04
آج کا ای پیپر ⁦3⁩ نومبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

امریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کو بڑا دھچکا، پارٹی رہنماؤں نے ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرا دیا

ڈیموکریٹس کی کئی ریاستوں میں کامیابیاں، کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کا مقابلہ سخت، ووٹوں کی گنتی جاری

واشنگٹن: امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بڑے انتخابی دھچکے کا سامنا ہے، جبکہ ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط بناتے دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کو بڑا دھچکا، پارٹی رہنماؤں نے ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرا دیا

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، کینساس، اوہائیو اور جنوبی کیرولائنا سمیت کئی ریاستوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جہاں دو سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نسبتاً آسانی سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ریاست آئیووا میں بھی ڈیموکریٹس کی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔

انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات سامنے آنے کے بعد ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنماؤں اور سیاسی حکمتِ عملی کے ماہرین نے پارٹی کی کارکردگی کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو قرار دیا ہے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے کہا کہ انتخابی شکست کی ذمہ داری مکمل طور پر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے اور یہ نتائج امریکی صدر کی پالیسیوں کو مسترد کیے جانے کی عکاسی کرتے ہیں۔

ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے بھی پارٹی کی انتخابی مہم کو غلطیوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ریاستوں میں ووٹروں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔

ریپبلکن رہنماؤں کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، بعض غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی سے متعلق عوامی تشویش کو مناسب اہمیت نہ دینے سے پارٹی کی انتخابی کارکردگی متاثر ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ریپبلکنز کو ابتدا میں ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کا خدشہ تھا، تاہم انہیں سینیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رہنے کی امید تھی۔ اب ابتدائی رجحانات دونوں ایوانوں میں سخت مقابلے کی نشاندہی کررہے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق ابتدائی نتائج میں سینیٹ کی 45 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 36 پر ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی رپورٹ ہوئی ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان کی 113 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 62 پر ریپبلکنز کی کامیابی سامنے آئی ہے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اہم کامیابیاں

ریاست ورجینیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دے کر چوتھی مدت کے لیے کامیابی حاصل کی۔

جارجیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف نے اپنے ریپبلکن حریف مائیک کولنز کو شکست دے کر دوبارہ سینیٹ کی نشست حاصل کرلی۔

اسی طرح ڈیلاویئر سے کرس کونز، نیو جرسی سے کوری بکر، روڈ آئی لینڈ سے جیک ریڈ اور میساچوسٹس سے ایڈورڈ مارکی نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں، جبکہ الینوائے سے ڈیموکریٹک امیدوار جولیانا اسٹریٹن نے کامیابی حاصل کی۔

ایوانِ نمائندگان کے اہم نتائج

فلوریڈا کے 20ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما ڈیبی واسرمین شلٹز نے ریپبلکن امیدوار برینٹ اینڈرسن کو شکست دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔

کینٹکی کے تیسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے مورگن میک گاروی، جارجیا کے 13ویں ڈسٹرکٹ سے جیسمین کلارک اور پانچویں ڈسٹرکٹ سے نیکیما ولیمز نے کامیابی حاصل کی۔

فلوریڈا کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما میکسویل الیگزینڈرو فراسٹ دوبارہ منتخب ہوئے، جبکہ 23ویں ڈسٹرکٹ سے لوئس فرینکل نے بھی کامیابی حاصل کی۔

جارجیا کے چھٹے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما لوسی میک باتھ نے ریپبلکن امیدوار کیون ای مارٹن کو شکست دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔

دوسری جانب ریپبلکن رہنما ہال راجرز نے کینٹکی کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیابی حاصل کی، جبکہ فلوریڈا کے 19ویں ڈسٹرکٹ سے ریپبلکن امیدوار جم شوارٹزل کامیاب ہوئے۔

فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی ڈیموکریٹک رہنما رشیدہ طلیب نے بھی مشی گن کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔

گورنرز کے انتخابات میں بھی اہم نتائج

امریکی میڈیا کے مطابق الینوائے سے ڈیموکریٹک گورنر جے بی پرٹزکر، میساچوسٹس سے مورا ہیلی، میری لینڈ سے ویس مور اور پنسلوانیا سے جوش شاپیرو دوبارہ کامیاب ہوگئے ہیں۔

فلوریڈا میں ریپبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز نے ڈیموکریٹک حریف ڈیوڈ جولی کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیت لیا۔ رپورٹ کے مطابق وہ ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر ہوں گے۔

جارجیا میں ڈیموکریٹک امیدوار اور اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز نے ریپبلکن امیدوار رک جیکسن کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیت لیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی اور نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد کانگریس کے دونوں ایوانوں میں سیاسی جماعتوں کی حتمی پوزیشن واضح ہوگی۔