امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ایک یا دو جوہری تنصیبات اب بھی امریکی کارروائی سے باقی ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں صرف 10 منٹ میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ایران معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم واشنگٹن اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتا۔
امریکی صدر نے ایران کے طرزِعمل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران معاہدے کے بعد اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران واقعی کسی سمجھوتے تک پہنچتا ہے یا نہیں۔
ایران پر دوبارہ حملوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا پہلے ہی ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور متعدد جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باقی ایک یا دو جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی کی ضرورت محسوس ہوئی تو امریکی فوج انتہائی مختصر وقت میں انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔