نئی دہلی: بھارت میں ووٹر لسٹوں سے تقریباً 13 کروڑ افراد کے نام خارج کیے جانے کا معاملہ شدت اختیار کرگیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر نام نکالے گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا الزام ہے کہ اس عمل سے لاکھوں اہل ووٹرز اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہوسکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ووٹر لسٹوں سے نام خارج ہونے والوں میں اقلیتی برادریوں، خصوصاً مسلمانوں کی بڑی تعداد شامل ہونے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں سے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا مقصد فوت شدہ افراد، دوہری رجسٹریشن اور نااہل ووٹرز کے نام نکال کر انتخابی فہرستوں کو درست بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق جن اہل شہریوں کے نام فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں، انہیں دوبارہ اندراج اور اپیل کا موقع دیا جائے گا۔
اس معاملے پر بھارت کی مختلف ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں، طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ نے بھی ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے معاملے پر مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے۔
عدالت میں دائر درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ووٹرز کے نام خارج کرنے کے طریقہ کار کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی اہل شہری کو ووٹ کے بنیادی حق سے محروم نہ ہونا پڑے۔
واضح رہے کہ 13 کروڑ کا عدد ابتدائی اور حتمی انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے ناموں کے مجموعی تخمینے سے متعلق ہے، جبکہ تمام افراد کے مستقل طور پر حق رائے دہی سے محروم ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
بھارت میں ووٹر لسٹوں کا تنازع ایسے وقت شدت اختیار کر رہا ہے جب آئندہ انتخابات سے قبل انتخابی اداروں کی غیرجانبداری اور عوام کے حق رائے دہی کے تحفظ پر بحث جاری ہے۔