مواد پر جائیں

کوئٹہ 15°C فجر 5:13 ظہر 12:19 عصر 4:26 مغرب 6:05 عشاء 7:25
آج کا ای پیپر ⁦10⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

حوثیوں کے خلاف فوج نہیں بھیجیں گے، ترکیہ کا اعلان

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے واضح کردیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ مشترکہ تحفظ کے لیے ہے، کسی ملک پر حملے کے لیے نہیں۔

انقرہ: ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی دستے نہیں بھیجے گا، تاہم سعودی عرب کے دفاع میں تعاون جاری رکھے گا۔

حوثیوں کے خلاف فوج نہیں بھیجیں گے، ترکیہ کا اعلان

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے انقرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کو بیرونی حملوں کی صورت میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دیگر ممالک اس کے دفاع میں تعاون کریں گے، لیکن اس کا مطلب کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملے کے لیے فوج بھیجنا نہیں۔

ہاکان فیدان کے مطابق ترکیہ سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ممکنہ دفاعی اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے فوجی حکام مشترکہ طور پر ضروریات اور تعاون کی نوعیت کا تعین کریں گے۔

ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ سعودی عرب کے دفاع میں فضائی دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور دیگر تکنیکی شعبوں میں تعاون کے امکانات زیر غور ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

یمن میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے بعد تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری سطح پر رابطے تیز ہوئے ہیں۔

حالیہ اجلاس میں تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی اقدامات پر عملدرآمد اور ضرورت پڑنے پر سعودی عرب میں دفاعی وسائل کی فوری فراہمی پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع میں تعاون اور یمن میں براہ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لینا دو الگ معاملات ہیں۔

ترک حکام کے مطابق دفاعی معاہدے کی پارلیمانی منظوری کا عمل بھی جاری ہے، جس کے بعد تعاون کے آئندہ مراحل طے کیے جائیں گے۔