مواد پر جائیں

کوئٹہ 17°C فجر 5:13 ظہر 12:19 عصر 4:26 مغرب 6:05 عشاء 7:25
آج کا ای پیپر ⁦10⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

غزہ میں 3 سال کی جنگ، 263 صحافی جان کی بازی ہار گئے

اسرائیلی حملوں، بھوک اور بے گھری کے باوجود فلسطینی صحافی دنیا تک غزہ کی صورتحال پہنچاتے رہے، صحافتی تنظیموں نے اسے صحافیوں کے لیے تاریخ کے مہلک ترین ادوار میں شمار کیا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تین سال مکمل ہونے کے دوران عام شہریوں کے ساتھ صحافیوں کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بمباری، نقل مکانی، خوراک کی قلت اور اپنے خاندانوں کے نقصان کے باوجود فلسطینی صحافی مسلسل میدان میں موجود رہے۔

غزہ میں 3 سال کی جنگ، 263 صحافی جان کی بازی ہار گئے

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق جنگ کے آغاز سے ستمبر 2026 کے اختتام تک 263 فلسطینی صحافی اور میڈیا کارکن جان سے جا چکے ہیں۔ تاہم صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں تصدیق کے مختلف معیار کے باعث ہلاکتوں کی الگ تعداد ریکارڈ کرتی ہیں۔

غزہ میں صحافیوں کو نہ صرف رپورٹنگ کے دوران حملوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کئی صحافی اپنے گھروں، اسپتالوں اور عارضی پناہ گاہوں میں بھی جان سے گئے۔

دسمبر 2023 میں خان یونس میں رپورٹنگ کے دوران کیمرہ مین سامر ابو دقہ ایک حملے میں زخمی ہوئے اور طبی امداد نہ پہنچنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

اس کے بعد بھی مختلف واقعات میں متعدد فلسطینی صحافی ہلاک ہوئے۔ جنوری 2024 میں حمزہ الدحدوح اور مصطفیٰ ثریا جبکہ جولائی میں اسماعیل الغول اور رامی الریفی بھی اسرائیلی حملوں میں جان سے گئے۔

سال 2025 میں بھی صحافیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مارچ میں نوجوان رپورٹر حسام شبات اور اپریل میں خاتون فوٹو جرنلسٹ فاطمہ حسونہ حملوں میں ہلاک ہوئیں۔

اگست 2025 میں غزہ کے شفا اسپتال کے قریب صحافیوں کے خیمے پر حملے میں انس الشریف سمیت چھ میڈیا کارکن جان سے گئے۔ اسرائیلی فوج نے انس الشریف پر حماس سے تعلق کا الزام لگایا تھا، تاہم صحافیوں کے تحفظ کی تنظیموں نے پیش کیے گئے شواہد پر سوالات اٹھائے۔

اسی ماہ خان یونس کے ناصر اسپتال پر حملوں میں مزید پانچ صحافی ہلاک ہوئے۔

جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود صحافیوں کی ہلاکتیں مکمل طور پر نہیں رک سکیں۔ رواں سال بھی متعدد واقعات میں فلسطینی صحافیوں کی جانیں گئیں، جن میں ستمبر کے آخر میں خان یونس کے علاقے المواصی میں ڈرون حملے کے دوران ہلاک ہونے والے صحافی محمد عبدالعزیز النجار بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت مسلح تنازعات میں صحافیوں کو شہریوں کی طرح تحفظ حاصل ہے۔ انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم بن سکتا ہے۔

غزہ کے صحافیوں نے انتہائی خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔ ان کی رپورٹنگ نے دنیا کو جنگ کے انسانی نقصانات، تباہی اور فلسطینی شہریوں کی مشکلات سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔