مواد پر جائیں

کوئٹہ 15°C فجر 5:13 ظہر 12:19 عصر 4:26 مغرب 6:05 عشاء 7:25
آج کا ای پیپر ⁦10⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

امریکا میں 65 سال بعد فوجی اہلکار کو سزائے موت، براہ راست دکھانے کا فیصلہ

13 افراد کے قتل میں ملوث سابق فوجی میجر کو 3 دسمبر کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، پینٹاگون نے براہ راست نشریات کی تصدیق کردی

واشنگٹن: امریکا نے 65 سال سے زائد عرصے بعد ایک سابق فوجی افسر کو سزائے موت دینے اور اس کارروائی کو انٹرنیٹ پر براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکا میں 65 سال بعد فوجی اہلکار کو سزائے موت، براہ راست دکھانے کا فیصلہ

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق سابق فوجی میجر اور ماہر نفسیات ندال ملک حسن کو 3 دسمبر کو ریاست ٹیکساس کے فوجی اڈے فورٹ ہڈ میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔

ندال ملک حسن کو 2009 میں فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور 32 کو زخمی کرنے کے جرم میں 2013 میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ سزا کو عوام کے سامنے لایا جائے گا تاکہ لوگ سنگین جرائم کے نتائج سے آگاہ ہوسکیں۔

پینٹاگون کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ سزائے موت کی کارروائی براہ راست نشر کی جائے گی، تاہم نشریات کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سابق فوجی افسر کی سزائے موت پر عمل درآمد کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی فوج میں آخری مرتبہ 1961 میں کسی اہلکار کو سزائے موت دی گئی تھی، جبکہ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے آخری فوجی سزائے موت دوسری عالمی جنگ کے دوران دی گئی تھی۔

دوسری جانب قانونی ماہرین نے سزائے موت کو براہ راست نشر کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی نشریات کی قانونی اور اخلاقی حیثیت پر بحث ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ندال ملک حسن کے پاس اب بھی سول عدالت سے رجوع کرنے کا قانونی راستہ موجود ہے، جس کے باعث سزا پر عمل درآمد میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔