سپریم کورٹ کے فیصلے پر بریک، کیا عمران خان کی شفا اسپتال منتقلی رک جائے گی؟
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کے معاملے پر قانونی معرکہ شدید تر ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے چیف کمشنر اسلام آباد کے ذریعے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے، جبکہ دوسری جانب عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے عدالت میں انتہائی اہم اضافی دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔
حکومت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ 18 اگست کا حکم قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز ہے، جس میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کو نظرانداز کیا گیا۔ حکومت کے مطابق عمران خان کی صحت کا باقاعدگی سے معائنہ ہو رہا ہے اور ان کی حالت اتنی خراب نہیں تھی کہ فوری اسپتال منتقل کیا جائے۔ اس لیے 18 اگست کا عبوری حکم کالعدم قرار دیا جائے۔
دوسری طرف، عظمیٰ خان کی جانب سے جمع کرائی گئی اضافی دستاویزات نے کیس کو نیا موڑ دے دیا ہے۔ ان دستاویزات میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک روانگی، مریم نواز کی ملاقاتوں کے احکامات اور سابق صدر آصف علی زرداری کو جیل میں دی گئی سہولیات کے ریکارڈ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، عالمی کرکٹرز کے تشویشناک خطوط اور برطانوی پارلیمنٹ کی کارروائی کا متن بھی سپریم کورٹ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے، جس کے بعد اس اہم کیس پر پور ملک کی نظریں ٹک گئی ہیں۔