بلوچستان میں نیا انتظامی ڈھانچہ جاری، 11 ڈویژنز اور 41 اضلاع کا اعلان
کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے نیا اور ترمیم شدہ ایڈمنسٹریٹو سٹرکچر 2026 جاری کردیا ہے۔
ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن نمبر 294-A-13/L/21-98 کے تحت بلوچستان کو اب 11 ڈویژنز اور 41 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں نئی تحصیلیں اور سب ڈویژنز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت کوئٹہ کو دو اضلاع، ایسٹ کوئٹہ اور ویسٹ کوئٹہ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایسٹ کوئٹہ میں سٹی، سدر اور ساریاپ جبکہ ویسٹ کوئٹہ میں کچلاک، پنجپائی اور نئے سب ڈویژن بروری کو شامل کیا گیا ہے۔

انتظامی ڈھانچے میں پشین، خضدار، لسبیلہ اور کوہِ سلیمان کو بھی نئے ڈویژنز کا درجہ دیا گیا ہے، جس کا مقصد انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانا اور دور دراز علاقوں کے عوام کو سرکاری سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔
نئی تحصیلوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے پشین ڈویژن میں توبہ کاکڑی کو نئی تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ برشور کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ ژوب ڈویژن میں مرغہ کبزئی کو نئی تحصیل قرار دیا گیا ہے۔
نصیر آباد ڈویژن میں خانپور، میرپور اور جیا خان کو نئی تحصیلوں کا درجہ دیا گیا ہے، جبکہ کوہِ سلیمان ڈویژن کے بارکھان میں رارا شم اور کولہو میں جندران کو نئی تحصیلیں قرار دیا گیا ہے۔
حکومت بلوچستان کے مطابق نئے انتظامی ڈھانچے کا بنیادی مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر انتظامی سہولیات فراہم کرنا، سرکاری امور تک رسائی آسان بنانا اور دور دراز علاقوں میں انتظامی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور حکومتی خدمات کی فراہمی میں بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔