ناراض بلوچوں کیلئے مذاکرات کے دروازے کھل گئے لیکن کن شرائط پر؟
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، تاہم بندوق کے زور پر کسی نظریے کو مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گرد عناصر نے بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رکھا ہے، انہیں یہ راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں واپس آنا ہوگا۔
79ویں یومِ آزادی کے موقع پر بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار میں پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان نے 79 برس کے سفر میں صفر سے آغاز کرکے دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا اور آج ایک ایٹمی قوت کے طور پر عالمی سطح پر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کی کامیابیوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ملک ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے مخصوص حالات کے باوجود پورے صوبے میں ضلع سے ڈویژن اور گاؤں سے تحصیل تک جس جوش و جذبے سے جشنِ آزادی منایا گیا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام پاکستان سے اپنی وابستگی اور محبت کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان سے جدا ہو رہا ہے یا دہشت گرد قوتیں تشدد کے ذریعے ملک کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گی، وہ حقائق سے دور ہیں۔ بلوچستان کے عوام نے آج اپنے عمل سے ایسے تمام منفی دعووں کی نفی کردی ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست اور حکومت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں اور آئندہ بھی کھلے رہیں گے۔ تشدد اور دہشت گردی کا راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں واپس آنے والوں کے لیے آئینی و سیاسی راستے موجود ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر تشدد کا راستہ ترک نہ کیا گیا تو ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی۔ حکومت بلوچستان، سیکیورٹی فورسز، افواج پاکستان اور بلوچستان پولیس امن و امان کے قیام کے لیے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت جائز سیاسی عمل اور آئین کے دائرے میں مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث دہشت گرد گروہوں سے مذاکرات ممکن نہیں۔ دنیا میں تنازعات کے حل کی مثالیں موجود ہیں، لیکن ان میں مذاکرات سیاسی عمل کا حصہ بننے والی قوتوں سے کیے گئے، دہشت گرد گروہوں سے نہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بنیاد پر مواقع فراہم کرنا نوجوانوں کو آگے لانے کا بنیادی ذریعہ ہے اور صوبے میں میرٹ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے بلوچستان پولیس، افواج پاکستان، ایف سی بلوچستان اور تمام سویلین شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کا دکھ پورے بلوچستان کا دکھ ہے۔ ان کے پیاروں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کے جوان سال صاحبزادے کے انتقال پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
وزیر اعلیٰ نے یومِ آزادی کی تقریب کے انعقاد پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی، ان کی ٹیم، چیف سیکرٹری، سیکرٹری صوبائی اسمبلی، سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی اور دیگر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ، گلگت بلتستان، پنجاب، سندھ اور کشمیر سے معزز مہمانوں کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت قومی اتحاد و یکجہتی کا واضح پیغام ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، بلوچستان کے بغیر پاکستان نامکمل ہے اور پاکستان کے بغیر بلوچستان کی تکمیل ممکن نہیں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان میں پائیدار امن قائم فرمائے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات سکون اور امن کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔ وزیر اعلیٰ نے قوم اور اہل بلوچستان کو ایک بار پھر یومِ آزادی کی مبارکباد بھی پیش کی۔
تقریب میں مختلف اسکولوں سے شریک بچوں کی جانب سے ملی نغمے پیش کیے گئے، جنہیں وزیر اعلیٰ نے سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کے لیے 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔