حکومتی چال ناکام؟ سردار اختر مینگل نے میدانِ عدالت میں مورچہ سنبھال لیا
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے ضلع وڈھ سے متعلق حکومتِ بلوچستان کے نوٹیفکیشن کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے کی۔ اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ اور ایاز ظہور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے اور حکومتِ بلوچستان کو آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
سماعت کے بعد ساجد ترین ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے بدنیتی کی بنیاد پر نئے اضلاع تشکیل دیے ہیں۔ ان کے مطابق ضلع وڈھ کے معاملے میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حکومتی اقدامات کے ذریعے لاکھوں افراد کو مشکلات سے دوچار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضلع وڈھ کے کئی اہم علاقوں کو بلوچستان کے دیگر اضلاع میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ ضلع ہیڈکوارٹر کو نال منتقل کیا جا رہا ہے۔ ساجد ترین کے مطابق اس اقدام سے حکومت کی بدنیتی واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی این پی نے حکومتی نوٹیفکیشن کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے اور پارٹی اس معاملے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔