تاریخ کا سب سے خطرناک اسمارٹ فون ڈراپ ٹیسٹ، گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم، حیران کن مناظر سامنے آ گئے
اسمارٹ فونز کی پائیداری کی تاریخ میں ایک نیا اور حیران کن باب رقم ہو گیا ہے۔ سویڈن کے فضا میں کیے گئے ایک انتہائی غیر معمولی اور ڈرامائی تجربے کے دوران آئی فون 17 پرو 100,416 فٹ (تقریباً 30.6 کلومیٹر) کی بلندی سے زمین پر گرنے کے باوجود نہ صرف محفوظ رہا بلکہ مکمل طور پر چالو حالت میں برآمد ہوا ہے۔ اس تاریخی کامیابی پر گنیز ورلڈ ریکارڈز کا باضابطہ ٹائٹل بھی اپنے نام کر لیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ تجربہ ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی RhinoShield نے برطانیہ کی ایرو اسپیس کمپنی ‘Sent Into Space’ کے تعاون سے انجام دیا۔ آئی فون 17 پرو کو ایک خاص اور جدید ‘AirX’ حفاظتی کیس میں بند کر کے ایک ہائی آلٹیٹیوڈ بیلون کے ذریعے کرۂ ارض سے اوپر یعنی اسٹریٹوسفیئر (خلا کے بالکل قریب) تک پہنچایا گیا۔ بلندی پر پہنچ کر بیلون سے ریلیز کے بعد فون نے تقریباً 25 منٹ تک زمین کی جانب آزادانہ اڑان (Free Fall) بھری۔
اس انتہائی سفر کے دوران فون کو شدید ترین فضائی حالات، یعنی منفی 40 سے منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے فریزنگ درجہ حرارت اور سمندری سطح سے صرف 1 فیصد رہ جانے والے فضائی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ سویڈن کے گھنے جنگلاتی علاقے میں گرنے کے بعد جی پی ایس ٹریکنگ کی مدد سے فون کی لوکیشن تلاش کی گئی۔
جب تجرباتی ٹیم اور گنیز ورلڈ ریکارڈز کے رسمی جج نے فون کا معائنہ کیا تو سب دنگ رہ گئے؛ فون کی بیرونی سطح پر کسی قسم کا نمایاں نقصان نہیں تھا، اس کا کیمرہ بالکل ٹھیک کام کر رہا تھا اور فون سے باآسانی کالز بھی کی جا سکتی تھیں۔ اس کامیاب تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر حفاظتی تحفظ کس حد تک ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔