17 اگست سے تمام موبائل سمز بدل جائیں گی؟ پی ٹی اے کا سنسنی خیز اعلان
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون آپریٹرز کے ساتھ مشاورت اور پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں ملک بھر میں ای سم سروسز کے لیے نئی اور یکساں پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔ نئی پالیسی آئندہ چند روز میں نافذ ہونے کا امکان ہے۔
پالیسی کے تحت ای سم جاری کرنے کی زیادہ سے زیادہ فیس 1500 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ صارفین کو ایک مطابقت رکھنے والے اسمارٹ فون سے دوسرے فون میں ای سم منتقل کرنے کی 10 مرتبہ مفت سہولت بھی دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ان صارفین کو خاص فائدہ ہوگا جو موبائل فون تبدیل کرنے کے بعد ای سم کی منتقلی کے لیے اضافی فیس ادا کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔
ای سم کیا ہے؟
ای سم روایتی پلاسٹک سم سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ فون میں پہلے سے موجود ایک ڈیجیٹل سم ٹیکنالوجی ہے، جس کے ذریعے صارف کسی موبائل آپریٹر کی سروس حاصل کرنے کے لیے عموماً کیو آر کوڈ اسکین کرکے یا ڈیجیٹل پروفائل ڈاؤن لوڈ کرکے اپنا نمبر فعال کرسکتا ہے۔
ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں پہلے ای سم کے لیے کوئی یکساں فیس اور طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ مختلف موبائل کمپنیوں کی جانب سے ای سم جاری کرنے یا اسے دوسرے فون میں منتقل کرنے کے لیے الگ الگ چارجز وصول کیے جاتے تھے، جو بعض صورتوں میں کافی زیادہ ہوتے تھے۔
فون تبدیل کرنے کی صورت میں صارفین کو کئی مرتبہ کسٹمر سروس سینٹر یا فرنچائز کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے ای سم کے استعمال میں مشکلات پیش آتی تھیں۔
نئی پالیسی سے صارفین کو کیا فائدہ ہوگا؟
نئی پالیسی کے تحت کوئی بھی موبائل آپریٹر ای سم جاری کرنے کے لیے 1500 روپے سے زیادہ فیس وصول نہیں کرسکے گا۔ اس کے علاوہ ایک ہی ای سم پروفائل کو مطابقت رکھنے والے مختلف اسمارٹ فونز میں 10 مرتبہ تک مفت منتقل کیا جاسکے گا۔
پی ٹی اے کی جانب سے نادرا اور موبائل آپریٹرز کے تعاون سے ایک محفوظ ڈیجیٹل نظام پر بھی کام کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مستقبل میں صارفین کو فون تبدیل کرنے پر فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر جانے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
مجوزہ نظام میں بائیومیٹرک اور ملٹی فیکٹر تصدیق جیسے حفاظتی اقدامات شامل کیے جائیں گے تاکہ کسی دوسرے شخص کی ای سم کو غیر قانونی طور پر منتقل کرنے یا استعمال کرنے کا خطرہ کم کیا جاسکے۔
نان پی ٹی اے فون پر ای سم کا کیا ہوگا؟
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ای سم کی نئی فیس اور منتقلی کی سہولت کا پی ٹی اے ڈیوائس رجسٹریشن یا کسٹم ٹیکس سے براہ راست تعلق نہیں۔ اگر کوئی موبائل فون پی ٹی اے سے رجسٹرڈ نہیں ہے تو اس کی ڈیوائس رجسٹریشن کے لیے متعلقہ قواعد پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
یعنی ای سم استعمال کرنے سے نان پی ٹی اے فون خود بخود رجسٹرڈ نہیں ہوجاتا اور ایسے فون پر موبائل سروس اسی مدت اور شرائط کے تحت دستیاب ہوگی جو غیر رجسٹرڈ ڈیوائسز کے لیے مقرر ہیں۔