“ہم کسی کی غلامی نہیں کریں گے،” ایران سے تجارت جاری رکھنے پر پاکستان کا سب سے بڑا اور خطرناک قدم
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے اہم سفارتی اور علاقائی معاملات پر پاکستان کے موقف کی وضاحت کی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت مکمل طور پر جاری ہے اور پاکستان تہران کے خلاف کسی کی بھی یکطرفہ پابندیوں کو تسلیم کرنے کا پابند نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے، تاہم اگر اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی پابندی عائد کی جائے تو معاملہ مختلف ہوگا۔
دفتر خارجہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی سخت تردید کی، جن میں انہیں امریکی صدر کے ایلچی کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ خالصتاً خطے میں کشیدگی کم کرنے، عالمی امن اور بالخصوص آبنائے ہرمز کی بندش کے معاملے کو حل کروانے کی پاکستانی ثالثی کوششوں کا حصہ تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تہران اور واشنگٹن خطے کے مفاد میں حتمی اور مثبت فیصلہ کریں گے۔
بھارت کو سخت سگنل دیتے ہوئے ترجمان نے سابق بھارتی سی ڈی ایف کے کیرانہ پہاڑوں سے متعلق بیانات کو بالی ووڈ طرز کا من گھڑت بیانیہ قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ تاریخ حقائق سے بنتی ہے نہ کہ ڈرامائی ادکاری سے۔ انہوں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر ہونے والی توڑ پھوڑ پر شدید احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں تجاوزات کے خلاف یکساں کارروائی کو نئی دہلی کے واقعے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
آخر میں ترجمان نے افغان طالبان کو متنبہ کیا کہ دوطرفہ سیکیورٹی میکنزم کے لیے محض زبانی دعوے کافی نہیں بلکہ عمل کر کے دکھانا ہوگا۔ اگر طالبان حکومت نے افغان سرزمین کو پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال ہونے دیا تو اسے پراکسی جنگ تصور کیا جائے گا۔