Tameerewatan
tameerewatan

جعلی کرنسی کا بڑھتا مسئلہ، عام شہری کیلئے اصلی نوٹ کی پہچان مشکل

جعلی کرنسی کا بڑھتا مسئلہ، عام شہری کیلئے اصلی نوٹ کی پہچان مشکل

اسلام آباد: ملک میں جعلی کرنسی کی گردش پر سینیٹ کی خزانہ کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ماہرین کے لیے بھی جعلی نوٹ کی شناخت مشکل ہوجائے تو عام شہری کے لیے اصلی اور نقلی کرنسی میں فرق کرنا مزید دشوار ہوجاتا ہے۔

سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ تقریباً دو سال قبل کمیٹی نے جعلی کرنسی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس وقت اسٹیٹ بینک کے گورنر کو 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دے کر ان میں سے جعلی نوٹ کی نشاندہی کرنے کا کہا گیا، تاہم وہ بھی جعلی نوٹ کی درست شناخت نہیں کرسکے۔

سلیم مانڈوی والا کے مطابق اگر اعلیٰ سطح پر موجود ماہرین کے لیے بھی جعلی نوٹ پہچاننا آسان نہیں تو عام شہری، بالخصوص کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے اس کی شناخت کس طرح ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 5 ہزار روپے کے علاوہ دیگر مالیت کے نوٹوں سے متعلق بھی جعلی کرنسی کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

کمیٹی چیئرمین نے بتایا کہ بینکوں اور اے ٹی ایمز سے بھی جعلی نوٹ ملنے کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ اگر کسی شہری کو اے ٹی ایم سے رقم نکالتے وقت جعلی نوٹ مل جائے تو اس کے ازالے کے لیے واضح اور مؤثر طریقہ کار موجود نہیں، جس سے شہری مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے معاملے میں شہری کو اکثر ایف آئی آر درج کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم پولیس کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جعلی نوٹ متاثرہ شخص تک کہاں سے پہنچا۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے متاثرہ شہری کے لیے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔

نئے کرنسی نوٹوں کے حوالے سے سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ان کے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز پر حکومتی سطح پر طویل مشاورت جاری رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے تجاویز بھی دی گئی ہیں جبکہ کابینہ کی منظوری کے بعد بعض تبدیلیوں کے باعث معاملہ دوبارہ مشاورت کے مرحلے میں چلا گیا۔

انہوں نے زور دیا کہ نئے کرنسی نوٹوں میں ایسے جدید اور نمایاں سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جائیں جنہیں عام شہری بھی آسانی سے پہچان سکے۔ واٹر مارک، سیکیورٹی لائنز اور دیگر حفاظتی خصوصیات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کے چیئرمین نے پاکستان میں پولیمر یا پلاسٹک کرنسی متعارف کرانے کے امکانات کا جائزہ لینے کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا، جاپان اور سوئٹزرلینڈ سمیت مختلف ممالک میں جدید کرنسی ٹیکنالوجی کا استعمال جعلی نوٹوں کی تیاری کو مشکل بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More