10 ماہ بعد بہن سے ملاقات میں عمران خان کا دل دہلا دینے والا انکشاف
اسلام آباد: بانی تحریک انصاف عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے پمز اسپتال میں چیک اپ کے دوران اپنے بھائی سے ہونے والی ملاقات کی تشویشناک تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھ دیں۔ انہوں نے بتایا کہ 10 ماہ بعد ہونے والی اس ملاقات کے دوران عمران خان نے ان سے کہا: “سب کو جا کر بتائیں کہ میرے ساتھ شدید ظلم اور ٹارچر کیا جا رہا ہے، مجھے قید تنہائی میں رکھ کر بالکل مصر کے سابق صدر مرسی کی طرح ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق انہیں رات گئے انتہائی پراسرار انداز میں اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال کی او پی ڈی منتقل کیا گیا، جہاں عمران خان کا طبی معائنہ جاری تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو مسلسل انسانوں سے الگ تھلگ (ہیومن کانٹیکٹ کے بغیر) رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں شدید انزائٹی اور بلڈ پریشر کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان کے بقول انہیں نہ اخبار، نہ کتابیں اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں ان کی ایک آنکھ میں انجیکشن لگایا گیا اور دوسری آنکھ پر پٹی باندھی گئی تھی۔ انہوں نے شفا اسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ ہونے اور ڈاکٹروں کی جانب سے وقت گزاری کا رویہ اختیار کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نامساعد حالات کے باوجود بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر 120/80 تھا اور وہ ذہنی و جسمانی طور پر اب بھی مضبوط اور فٹ ہیں۔