Tameerewatan
tameerewatan

کیا آپ کا شہر بھی نیا صوبہ بنے گا؟ 24 کروڑ عوام کے لیے بڑا سرپرائز فارمولا

کیا آپ کا شہر بھی نیا صوبہ بنے گا؟ 24 کروڑ عوام کے لیے بڑا سرپرائز فارمولا

ماسکو/اسلام آباد: دنیا کے سب سے بڑے ملک روس میں رہتے ہوئے اس کے انتظامی نظام کو قریب سے دیکھا جائے تو ایک ہوشربا اور چونکا دینے والا سوال سامنے آتا ہے کہ تقریباً 14 کروڑ 61 لاکھ آبادی والا روس اگر 89 وفاقی اکائیوں کے ذریعے کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے، تو 24 کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والا پاکستان آخر صرف چار صوبوں پر کیوں انحصار کر رہا ہے؟

حیرت انگیز اعداد و شمار کے مطابق روس کی 89 اکائیوں میں فی اکائی اوسط آبادی محض 16 لاکھ بنتی ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے صرف ایک صوبے پنجاب کی آبادی (12 کروڑ 77 لاکھ) پورے روس کی کل آبادی کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس کے باوجود پنجاب کی اتنی بڑی آبادی کا نظام صرف ایک وزیراعلیٰ، ایک کابینہ اور ایک مرکزی سیکرٹریٹ کے مرہونِ منت ہے۔

اس شدید ناانصافی اور انتظامی بحران پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی بڑا دھماکہ کرتے ہوئے موجودہ نظامِ حکمرانی کو “کولیپس” (مکمل تباہ) قرار دے دیا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو بیٹھ کر نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی معروف شخصیت میاں عامر محمود کی برسوں پرانی وہ تجویز بھی دوبارہ زیرِ بحث آ گئی ہے جس میں پاکستان کے ہر ڈویژن کو ایک الگ صوبہ بنانے کا فارمولا پیش کیا گیا تھا۔ 24 کروڑ کی آبادی میں تعلیمی، معاشی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے اب چاروں صوبائی حکومتوں کا پرانا ڈھانچہ توڑ کر عوام کو ان کی دہلیز پر اختیارات دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More