سیاحوں کی بس الٹنے سے 12 افراد ہلاک، 10 شدید زخمی
بوڈاپسٹ: ہنگری میں پولینڈ کے سیاحوں کو لے جانے والی بس موٹروے پر خوفناک حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک جبکہ کم از کم 10 زخمی ہوگئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حادثہ اتوار کی صبح مشرقی ہنگری کے قصبے میزُوکیرِشٹیش کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق پولینڈ میں رجسٹرڈ بس ایم تھری موٹروے پر نیرِیگ ہازا کی جانب جارہی تھی کہ اچانک سڑک سے اتر کر ایک گڑھے میں جاگری اور الٹ گئی۔
ہنگری کے وزیراعظم پیٹر میگیار نے سوشل میڈیا پر حادثے میں 12 افراد کی ہلاکت اور کم از کم 10 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
ہنگری پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ بس ڈرائیور دورانِ سفر سو گیا تھا، جس کے باعث بس بے قابو ہوکر سڑک سے اتر گئی۔ تاہم حادثے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ہنگری کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایم ٹی آئی کے مطابق بس میں 57 مسافر اور 2 ڈرائیور سوار تھے۔ حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بس میں پھنسے مسافروں کو نکالا اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔
حادثے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں سرخ رنگ کی بس موٹروے کے کنارے ایک گڑھے میں الٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جبکہ بس کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی اور مسافروں کا سامان جائے حادثہ پر بکھرا نظر آیا۔
پولیس نے بس ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ حادثے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب پولینڈ کے صدر کارول ناوروتسکی نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولش شہریوں کی ہلاکت پر تعزیت کی ہے۔
پولش وزارت خارجہ کے مطابق حادثے سے متعلق تصدیق شدہ معلومات فراہم کی جائیں گی جبکہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی معاونت کے لیے قونصلر حکام اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔