کوئٹہ کے پارک بدتمیزی اور ہراسانی کا مرکز بن گئے، خواتین اور فیملیز پریشان
کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بیشتر پارکوں میں آوارہ اور اوباش نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے شہریوں، خصوصاً خواتین اور فیملیز کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ پارکوں کے اندر اور باہر نوجوانوں کی جانب سے مبینہ طور پر بدتمیزی، نازیبا جملوں اور خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافے پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ متعلقہ انتظامیہ کی خاموشی بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
شہریوں کے مطابق شام کے اوقات میں مختلف پارکوں میں نوجوانوں کے گروہ جمع ہو جاتے ہیں، جن کی مبینہ نازیبا حرکات اور غیر مناسب رویوں کے باعث فیملیز خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سیر و تفریح کے لیے آنے والی خواتین اور بچیوں کو پارک کے داخلی راستوں پر ہی گھورنے، فقرے کسنے اور مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ پارک عوام کے لیے تفریح اور صحت مند سرگرمیوں کا ذریعہ ہونے چاہئیں، تاہم بدتمیزی اور غیر اخلاقی رویوں کے باعث متعدد عزت دار خاندانوں نے ان مقامات پر جانا کم یا ترک کر دیا ہے۔
شہری حلقوں نے صوبائی حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ کے تمام بڑے پارکوں میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں، داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی بڑھائی جائے، سی سی ٹی وی کیمرے فعال کیے جائیں اور خواتین و فیملیز کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
شہریوں نے مزید کہا کہ پارکوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے باقاعدہ سیکیورٹی عملہ تعینات کیا جائے تاکہ خواتین، بچوں اور خاندانوں کو محفوظ اور پُرسکون ماحول میں سیر و تفریح کی سہولت میسر آسکے۔