کوئٹہ میں پولیس اور شہری آمنے سامنے: کچ موڑ کلی ناصران میں چار دیواری گرانے پر تنازع شدید ہو گیا
کوئٹہ کے علاقے کچ موڑ کلی ناصران میں جائیداد کے ایک تنازع نے اس وقت شدید رخ اختیار کر لیا جب ایڈووکیٹ حکیم اللہ نے پولیس انتظامیہ پر اپنی چار دیواری مسمار کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ مدعی وکیل کے مطابق قبضہ مافیا انہیں شدید دباؤ میں لا کر انتہائی کم قیمت پر زمین فروخت کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے،
اور پولیس کی موجودگی میں کی جانے والی یہ کارروائی سراسر غیر قانونی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جائیداد پر کوئی تنازع موجود بھی تھا تو پھر کس عدالتی حکم اور قانونی اختیار کے تحت توڑ پھوڑ کی گئی؟ ایڈووکیٹ حکیم اللہ نے اپنے قانونی حقوق اور جائیداد کے تحفظ کی خاطر عدالت سمیت تمام متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب، متعلقہ تھانے کے حکام نے تمام تر الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ زمین دراصل کنٹونمنٹ بورڈ کی ملکیت ہے۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ وہاں موجود افراد کے پاس ملکیت کے حوالے سے کوئی بھی قانونی یا دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔ فی الوقت انتظامیہ کی جانب سے معاملے کے تمام قانونی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔