سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اتحاد پر وزیراعلیٰ کا ہنگامی اور بڑا انکشاف
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی کامیابی اور استحکام کی جانب مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور اس سفر کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون کسی جارحانہ عزائم کے لیے نہیں بلکہ ملک کے دفاع اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہے۔
وزیراعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار کوئٹہ میں ’’رسولِ رحمت ﷺ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ خطاطی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ سال مئی میں کوئٹہ میں ’’بیان المرصوص‘‘ کے نام سے عالمی خطاطی نمائش منعقد کی جائے گی، جس میں اسلامی ممالک، ترکی اور دیگر ملکوں کے معروف خطاط اور فنکار شرکت کریں گے۔ حکومت بلوچستان اس عالمی تقریب کے انعقاد میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر کوئٹہ میں ایسی تقریب کا انعقاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچستان عالمی معیار کے ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال بڑی خطاطی نمائش کے انعقاد کے لیے خطاط واصل شاہد سے رابطہ کیا گیا ہے، جبکہ حکومت بلوچستان اس سلسلے میں تمام ضروری تعاون فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی نمائش کے لیے اسلامی دنیا، ترکی اور دیگر ممالک کے ممتاز فنکاروں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ دنیا کو کوئٹہ سے یہ مثبت پیغام دیا جا سکے کہ بلوچستان کے عوام فنونِ لطیفہ سے محبت کرتے ہیں، امن پسند ہیں اور اسلامی خطاطی سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نمائش کی تیاریوں کا عمل ابھی سے شروع کیا جائے اور اسے دو سے تین روزہ عالمی ایونٹ کے طور پر منعقد کیا جائے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ’’بیان المرصوص‘‘ کے عنوان سے عالمی خطاطی نمائش 9 اور 10 مئی کو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ برس بھی مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا، جبکہ رواں سال ’’معرکۂ حق‘‘ کے سلسلے میں ہونے والی تقریبات میں خطاطی کو بھی شامل کیا جائے گا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ اور وقار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں تشدد کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والا محدود گروہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان خود بلوچ عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پلوں، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے سے عوام ہی متاثر ہوتے ہیں، جبکہ تجارت میں رکاوٹ اور تاجروں کے سامان بردار ٹرکوں کو نقصان پہنچانے سے عام لوگوں کے روزگار پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نے اتحاد اور عزم کا جو مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے اور پاکستان کا کامیابی کی جانب سفر جاری رہے گا۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو بھی سراہا۔
میر سرفراز بگٹی نے خطاط واصل شاہد اور سرینا ہوٹلز کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تقریب بلوچستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال 9 اور 10 مئی کو ’’بیان المرصوص‘‘ اور ’’معرکۂ حق‘‘ کے عنوان سے مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن میں خطاطی کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو مزید عزت و وقار عطا فرمائے اور ملک کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔