اب حکومت آپ کوخود بیرونِ ملک بھیجے گی،جانیے کیسے؟
لاہور: حکومت پنجاب نے بیرونِ ملک ملازمت کے خواہش مند افراد کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے ’’پرواز کارڈ‘‘ اسکیم متعارف کرائی ہے، جس کے تحت اہل امیدواروں کو بیرونِ ملک روانگی سے قبل ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا۔
اس اسکیم کا مقصد ان ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کی مدد کرنا ہے جو بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرچکے ہیں، تاہم ویزا، ٹکٹ، میڈیکل اور دیگر ابتدائی اخراجات کے لیے مطلوبہ رقم دستیاب نہیں۔ یہ پروگرام پنجاب اسکل ڈیولپمنٹ فنڈ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
کون درخواست دے سکتا ہے؟
پرواز کارڈ کے لیے درخواست دینے والے امیدوار کا پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا ضروری ہے جبکہ عمر کم از کم 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ امیدوار کے پاس درست قومی شناختی کارڈ اور بیرونِ ملک ملازمت کا تصدیق شدہ آفر لیٹر بھی ہونا چاہیے۔
اس اسکیم سے مرد و خواتین دونوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ ہنرمند اور غیر ہنرمند کارکن بھی درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ بیرونِ ملک ملازمت کی ماہانہ تنخواہ 5 ہزار سعودی ریال یا دیگر کرنسی میں اس کے مساوی رقم سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
قرض کن اخراجات کے لیے استعمال ہوگا؟
بلا سود قرض بیرونِ ملک ملازمت کے لیے روانگی سے متعلق ضروری اخراجات پر خرچ کیا جاسکے گا۔ ان میں ویزا فیس، میڈیکل ٹیسٹ، فضائی ٹکٹ، پروٹیکٹر رجسٹریشن، اسکلز ویریفکیشن اور لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی فیس شامل ہیں۔
آن لائن درخواست دینے کا طریقہ
اہل امیدوار پرواز کارڈ کے سرکاری آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست جمع کراسکتے ہیں۔ درخواست کے دوران شناختی دستاویزات، ملازمت کا آفر لیٹر اور دیگر مطلوبہ کاغذات اپ لوڈ کرنا ہوں گے۔
درخواست جمع ہونے کے بعد امیدوار آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی درخواست کی پیش رفت بھی چیک کرسکیں گے۔ حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات کی تصدیق کی جائے گی، جبکہ غلط، جعلی یا نامکمل معلومات کی صورت میں درخواست مسترد ہوسکتی ہے۔
حکومت پنجاب کے مطابق ’’پرواز کارڈ‘‘ اسکیم کا مقصد شہریوں کو قانونی اور محفوظ طریقے سے بیرونِ ملک روزگار حاصل کرنے میں سہولت دینا اور ملازمت کے حصول میں حائل ابتدائی مالی مشکلات کم کرنا ہے۔