Tameerewatan
tameerewatan

30 سال پرانی بھولی ہوئی یادیں اچانک زندہ ہو گئیں، کیا انسان کے دماغ سے کچھ بھی ختم نہیں ہوتا؟

30 سال پرانی بھولی ہوئی یادیں اچانک زندہ ہو گئیں، کیا انسان کے دماغ سے کچھ بھی ختم نہیں ہوتا؟

نئی تحقیق کے مطابق انسان جن یادوں کو وقت گزرنے کے ساتھ بھول جاتا ہے، وہ ضروری نہیں کہ دماغ سے مکمل طور پر ختم ہو جائیں۔ بعض یادیں دماغ میں ایک غیر فعال حالت میں موجود رہ سکتی ہیں اور کسی خاص اشارے، ماحول یا صورتحال کے باعث دوبارہ یاد آ سکتی ہیں۔

محققین نے پھلوں کی مکھیوں پر تجربات کے دوران دیکھا کہ جس ماحول میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے، بعد میں ویسا ہی ماحول فراہم کرنے سے اس یاد کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی یادداشت ایک پیچیدہ عمل ہے۔ کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں، جبکہ بعض ایسی یادیں بھی ہوتی ہیں جو بظاہر بھلا دی گئی ہوں لیکن کسی جگہ، خوشبو، منظر یا معمولی سے اشارے کے بعد اچانک ذہن میں واپس آ جاتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دماغ ہمیشہ درست یادوں کو ہی محفوظ نہیں رکھتا بلکہ بعض اوقات ایسی یادیں بھی تشکیل پا سکتی ہیں جو حقیقت میں پیش نہیں آئیں۔ تاہم سائنس دان اب تک یہ مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے کہ حقیقی اور غلط یادوں کی تشکیل اور دوبارہ یاد آنے کے دوران دماغ میں کس طرح کے پیچیدہ عصبی عمل ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس تحقیق سے یادداشت کے نظام کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے اور یہ جاننے کے نئے راستے کھل سکتے ہیں کہ دماغ پرانی یادوں کو کس طرح محفوظ رکھتا ہے اور مخصوص حالات میں انہیں دوبارہ متحرک کرنے میں بیرونی اشارے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More