بلوچستان اسمبلی کا وہ تاریخی فیصلہ جس نے سب کو دنگ کر دیا
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بلوچستان اسمبلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
قرارداد وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی، صوبائی وزراء میر محمد صادق عمرانی، میر ظہور احمد بلیدی، میر شعیب نوشیروانی، فیصل خان جمالی اور پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند کی جانب سے پیش کی گئی۔
قرارداد میں بھارت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے اقدام کو غیر آئینی، غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی۔ ایوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ان اقدامات سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
بلوچستان اسمبلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، پابندیوں اور گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔
قرارداد کے ذریعے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
ایوان نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر عالمی فورمز پر مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔
قرارداد میں 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منانے کی توثیق کرتے ہوئے کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔