Tameerewatan
tameerewatan

مولانا فضل الرحمان کے بلوچستان حکومت میں شامل نہ ہونے کا بڑا اعلان، دھماکہ خیز انکشافات

مولانا فضل الرحمان کے بلوچستان حکومت میں شامل نہ ہونے کا بڑا اعلان، دھماکہ خیز انکشافات

 جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش تمام سیاسی، آئینی اور سیکیورٹی بحرانوں کا واحد حل آئین کی بالادستی، جمہوری عمل کی بحالی اور قومی مشاورت میں پوشیدہ ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں بعض علاقوں میں عوام کا اپنے گھروں تک جانا بھی دشوار ہو چکا ہے۔ حکومت اور طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں، اس لیے ریاست کو سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں جے یو آئی کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر آغا محمود شاہ، میر یونس عزیز زہری، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور ملک سکندر خان ایڈووکیٹ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

مولانا فضل الرحمن نے بلوچستان کی سیاست سے متعلق واضح کیا کہ جے یو آئی صوبائی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ ڈاکٹر مالک بلوچ سے ملاقات کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا علم نہیں کہ وہ دوبارہ وزیراعلیٰ بن رہے ہیں یا نہیں، تاہم عوام پر زبردستی حکومتیں مسلط کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ خود موجودہ نظام کو ناکام سمجھتے ہیں تو انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

اپوزیشن کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے محمود خان اچکزئی پر زور دیا کہ وہ بحیثیت اپوزیشن لیڈر تمام اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس بلا کر مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں۔ اگر انہوں نے پہل نہ کی تو جے یو آئی خود قومی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس (APC) کا انعقاد کرے گی۔

نئے صوبوں کے قیام پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ صوبے کوئی کیک نہیں جنہیں اپنی مرضی سے کاٹ دیا جائے۔ نئے صوبوں کی تشکیل، آئینی اصلاحات اور قومی معاملات انتہائی حساس ہیں جن کے فیصلے صرف عوامی رائے، قوموں کی شناخت اور وسیع مشاورت سے ہی کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے مارشل لا ادوار نے ملکی آئین کو شدید نقصان پہنچایا اور سیاستدانوں کو کبھی آزادانہ کام نہیں کرنے دیا گیا۔ 26ویں آئینی ترمیم پر حکومت سے بات چیت ہوئی تھی، لیکن آئندہ کے لیے مجوزہ ترامیم پر خدشات موجود ہیں۔ سیاست میں محض نئے چہروں کے نعرے کے بجائے تجربہ اور بصیرت ضروری ہے، اور جے یو آئی آئین و جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More