اغوا کے بعد زبردستی ویڈیوز بنائی گئیں,خضدار کی متاثرہ خاتون نے ظہور جمالزئی کو نامزد کر دیا
خضدار: ایک خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 5 فروری 2024 کو خضدار سے مبینہ طور پر اغوا ہوئی، جس میں انہوں نے ظہور جمالزئی کو ملوث قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں خاتون کا کہنا ہے کہ اغوا کے دوران ان سے مبینہ طور پر زبردستی ویڈیوز ریکارڈ کروائی گئیں، جو اب سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جس سے انہیں شدید ذہنی اذیت اور نقصان کا سامنا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے خاندان کو مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے اور ان کے خلاف مختلف الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کرکے انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
خاتون نے نواب ثناء اللہ خان زہری اور نعمت اللہ خان زہری سے بھی اپیل کی کہ وہ معاملے کا نوٹس لے کر انصاف کی فراہمی میں کردار ادا کریں۔
انہوں نے عوام، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست کی کہ معاملے کو ذمہ داری کے ساتھ اجاگر کیا جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔