سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری، سپریم کورٹ کے 13 صفحات کے فیصلے نے بازی پلٹ دی
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق اہم کیس کا 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے خیبرپختونخوا سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ملازمین کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ان کی سینیارٹی اصل حالت میں بحال کی جائے، کیونکہ ریاست یا اس کا کوئی ادارہ اپنی انتظامی غلطی اور تاخیر کا فائدہ اٹھا کر ملازمین کو قربانی کا بکرا نہیں بنا سکتا۔
جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ملازمین کو ‘کے پی ایمپلائز ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018’ کے تحت 7 مارچ 2018 سے ریگولر کیا گیا تھا۔ تاہم سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کی اشاعت میں جو تاخیر ہوئی، وہ محض ایک انتظامی کوتاہی تھی اور گزٹ نوٹیفکیشن میں تاخیر کو سینیارٹی ختم کرنے کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ 2019 سے 2023 تک کی سینیارٹی لسٹوں میں متعلقہ ملازمین سینئر ہی چلے آ رہے تھے، لہٰذا محض گزٹ میں تاخیر کی بنیاد پر ملازمین کو ان کے قانونی حق سے محروم رکھنا ناانصافی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کے پی کے متاثرہ ملازمین کی 7 مارچ 2018 سے ریگولرائزیشن اور سینیارٹی بحال کر دی گئی ہے۔