مواد پر جائیں

کوئٹہ 24°C فجر 5:16 ظہر 12:17 عصر 4:21 مغرب 5:59 عشاء 7:19
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بلوچستان

74 سال بعد پاکستان کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں اہم ذمہ داری مل گئی

وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ 2027 میں دونوں عالمی مالیاتی اداروں کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت کریں گے، پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کے معاشی مسائل عالمی سطح پر اٹھانے کا موقع ملے گا۔

اسلام آباد: پاکستان کو 74 سال بعد عالمی مالیاتی نظام میں ایک اہم ذمہ داری مل گئی ہے۔ ملک 2027 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت کرے گا۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ کو دونوں اداروں کے بورڈز کا آئندہ چیئرمین نامزد کردیا گیا ہے۔

74 سال بعد پاکستان کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں اہم ذمہ داری مل گئی

وزارت اقتصادی امور کے مطابق اس فیصلے کا باضابطہ اعلان تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔ پاکستان آخری مرتبہ 1953 میں اس منصب پر فائز ہوا تھا اور اب سات دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد اسے دوبارہ یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کے سالانہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر تک بنکاک میں جاری ہیں، جن میں 191 ممالک سے 15 ہزار سے زیادہ نمائندے شرکت کررہے ہیں۔ شرکا میں وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے سربراہان، معاشی پالیسی ساز، سرمایہ کار اور بین الاقوامی کاروباری اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔

وزارت اقتصادی امور نے پاکستان کی نامزدگی کو ایک اہم سفارتی اور معاشی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ذمہ داری سے پاکستان کو عالمی معیشت، ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی تعاون سے متعلق بات چیت میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، جو عالمی بینک میں پاکستان کے گورنر بھی ہیں، نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اپنی نئی ذمہ داری کے دوران ترقی پذیر ممالک کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں عالمی اداروں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر معیشتوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے بروقت اور قابلِ اعتماد مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس بات پر زور دے گا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے ایسے ممالک کے لیے فنڈنگ کے نظام کو زیادہ مؤثر اور قابلِ پیش گوئی بنائیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔

احد خان چیمہ کے مطابق پاکستان مختلف عالمی ترقیاتی اداروں کے درمیان تعاون بہتر بنانے، نجی سرمایہ کاری بڑھانے اور ایسی معاشی پالیسیوں کے فروغ کے لیے کام کرے گا جن سے ترقی کے فوائد معاشرے کے زیادہ سے زیادہ طبقات تک پہنچ سکیں۔

انہوں نے عالمی بینک، آئی ایم ایف اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر اور جواب دہ بنانے کی ضرورت ہے۔

چیئرمین نامزد ہونے کے بعد احد خان چیمہ کو عالمی بینک گروپ کے کارپوریٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے نئی ذمہ داریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس دوران انہیں بورڈز آف گورنرز کے اجلاسوں، ادارہ جاتی رابطوں اور آئندہ سال کے اہم امور سے آگاہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے عالمی بینک گروپ کی نائب صدر اور کارپوریٹ سیکریٹری ارادھنا کمار کپور سے بھی ملاقات کی۔ دونوں نے پاکستان کی آئندہ صدارت کے دوران ادارہ جاتی تعاون، انتظامی امور اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔

احد خان چیمہ نے موجودہ چیئرمین اور پیراگوئے کے مرکزی بینک کے گورنر کارلوس کاروالو اسپالڈنگ سے بھی ملاقات کی اور ان کی مدت کے دوران انجام دی گئی خدمات کو سراہا۔ ملاقات میں آئندہ سال کی ترجیحات اور چیئرمین شپ سے متعلق عملی امور پر گفتگو ہوئی۔

عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز اینا بیئرڈے کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں جانب سے پاکستان کے لیے عالمی بینک کے طویل مدتی تعاون، انسانی ترقی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت، پانی اور صفائی کی سہولیات اور معاشی ترقی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر احد خان چیمہ نے پاکستان کے اہم ریلوے منصوبے ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کے لیے عالمی بینک سے مزید تعاون کی درخواست کی۔ انہوں نے تقریباً 1800 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کے ساتھ مجوزہ اقتصادی راہداری اور معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات بھی پیش کیے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں پاکستانی وفد نے سالانہ اجلاسوں کے دوران عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے مواقع اور مالیاتی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے شرکا کو بتایا کہ پاکستان کا مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے، جبکہ مسلسل تین سال سے بنیادی مالیاتی فاضل حاصل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات اور برآمدات پر مبنی ترقی کے منصوبے جاری رکھے گی۔

محمد اورنگزیب نے بنکاک میں تھائی لینڈ کے وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے عشائیے کے دوران عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں شخصیات کے درمیان جاری معاشی اور ترقیاتی امور پر غیر رسمی تبادلہ خیال ہوا۔

پاکستان کی نئی ذمہ داری کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک دنیا بھر میں مالیاتی استحکام، ترقیاتی قرضوں، غربت میں کمی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق پالیسیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے بورڈز آف گورنرز میں رکن ممالک کے نامزد نمائندے شامل ہوتے ہیں۔

تاہم بورڈز آف گورنرز کی صدارت کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کو دونوں اداروں کے روزمرہ انتظامی فیصلوں، قرضوں کی منظوری یا مالیاتی شرائط پر یکطرفہ اختیار حاصل ہوجائے گا۔ چیئرمین کا بنیادی کردار اجلاسوں کی صدارت، رکن ممالک کے درمیان رابطے اور اہم پالیسی امور پر بات چیت کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ موقع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

وزارت اقتصادی امور کے مطابق پاکستان 2027 میں اس ذمہ داری کو عالمی معاشی تعاون بڑھانے، ترقی پذیر ممالک کے مؤقف کو اہمیت دلانے اور ترقیاتی وسائل تک بہتر رسائی کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔