مواد پر جائیں

کوئٹہ 19°C فجر 5:14 ظہر 12:18 عصر 4:23 مغرب 6:02 عشاء 7:21
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بلوچستان

بلوچستان کی دیہی خواتین تعلیم میں کتنی پیچھے؟ اہم اعدادوشمار سامنے آگئے

ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے خواتین کی تعلیم، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری کے لیے اہم اقدامات پر زور دیا

کوئٹہ: بلوچستان کے دیہی علاقوں میں خواتین کی شرحِ خواندگی 27 فیصد سے بھی کم ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مردوں اور خواتین کی تعلیم میں نمایاں فرق برقرار ہے۔ صوبائی مشیر برائے ترقیٔ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے خواتین کے لیے تعلیم، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

بلوچستان کی دیہی خواتین تعلیم میں کتنی پیچھے؟ اہم اعدادوشمار سامنے آگئے

دیہی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے 2023 کی مردم شماری کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں خواتین کی شرحِ خواندگی 26.59 فیصد جبکہ مردوں کی شرحِ خواندگی 44.16 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ان اعدادوشمار کے مطابق دیہی علاقوں میں مردوں اور خواتین کی شرحِ خواندگی کے درمیان 17.57 فیصد پوائنٹس کا فرق موجود ہے، جو خواتین کی تعلیم تک رسائی میں درپیش مشکلات کو نمایاں کرتا ہے۔

صوبائی مشیر نے کہا کہ بلوچستان کی دیہی خواتین زراعت، مویشی پالنے، دستکاری، قالین بافی اور گھریلو صنعتوں سمیت مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ تاہم ان کی محنت کا بڑا حصہ باضابطہ معاشی اعدادوشمار میں پوری طرح شامل نہیں ہوپاتا۔

ڈاکٹر ربابہ بلیدی کے مطابق دیہی خواتین میں ہنر اور کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن پیشہ ورانہ تربیت، سرمایہ اور اپنی تیار کردہ مصنوعات کو منڈیوں تک پہنچانے کے محدود مواقع ان کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے ہنرمند خواتین کو بلا سود مالی معاونت فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے، تاکہ وہ اپنے کاروبار شروع کرسکیں یا پہلے سے جاری معاشی سرگرمیوں کو وسعت دے سکیں۔

صوبائی مشیر نے خواتین کے لیے مخصوص منڈیوں اور پیشہ ورانہ تربیتی منصوبوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق خواتین کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے مناسب مواقع فراہم کرکے ان کی آمدنی اور معاشی خودمختاری میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے بچیوں کی تعلیم کے لیے محفوظ ماحول، صحت کی بہتر سہولتوں اور قانونی معاونت کو بھی خواتین کی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور معاشی مواقع کی فراہمی ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

بلوچستان کے دور دراز دیہی علاقوں میں خواتین کے لیے تعلیمی اداروں، تربیتی مراکز اور کاروباری سہولتوں تک رسائی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان منصوبوں کے عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سہولتیں کتنی خواتین تک پہنچتی ہیں اور انہیں معاشی طور پر کتنا فائدہ ہوتا ہے۔

2023 کی مردم شماری کے اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی دور کیے بغیر ان کی معاشی شرکت میں وسیع پیمانے پر بہتری لانا مشکل ہوگا۔