کوئٹہ میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور شہریوں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے ٹریفک پولیس نے اصلاحات پر عمل شروع کردیا ہے۔ شہر کے ٹریفک سگنلز فعال کردیے گئے ہیں جبکہ ٹریفک کے نظام کو سیف سٹی منصوبے کے ساتھ مکمل طور پر منسلک کردیا گیا ہے۔
ایس ایس پی ٹریفک پولیس کوئٹہ دوستین دشتی نے بتایا کہ شہر میں ٹریفک کا نظام جدید بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔ کوئٹہ منصوبے کے تحت ٹریفک پولیس کے تمام امور کو ڈیجیٹل کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں میں ڈرائیونگ لائسنس تقسیم کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پریس کلب کے صدر عرفان سعید، جنرل سیکرٹری ایوب ترین اور آئی جی پولیس بلوچستان کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز شہزادہ فرحت جان احمد زئی بھی موجود تھے۔
دوستین دشتی نے کہا کہ ٹریفک پولیس میں نفری کی کمی دور کرنے کے لیے 40 اہلکاروں کے ساتھ جدید موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کی ہدایت پر خالی آسامیوں پر میرٹ کے مطابق بھرتیوں کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔
ایس ایس پی ٹریفک کے مطابق شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور بے ترتیبی پر قابو پانے کے لیے 100 سے زائد تربیت یافتہ رضاکار بھی ٹریفک پولیس کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام اور شہریوں میں قوانین کی پابندی کا شعور پیدا کرنے کے لیے مختلف تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہے۔
دوستین دشتی نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ٹریفک پولیس کی خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کریں تاکہ انہیں دور کرکے شہریوں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔