واشنگٹن: امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حکم ملنے کے 96 گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ حملوں کے لیے درکار امریکی فوجی وسائل خطے میں موجود ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے ابھی کارروائی کی منظوری نہیں دی اور حملے کا کوئی حتمی وقت بھی طے نہیں ہوا۔
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ زیرِ غور کارروائی ایرانی ریڈار، میزائل لانچرز اور دیگر فوجی سازوسامان پر محدود حملوں سے زیادہ وسیع ہوسکتی ہے۔
سی این این کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگون ممکنہ اہداف کی فہرست تیار کررہے ہیں، جس میں ایران کی توانائی کی تنصیبات، فوجی مراکز اور جوہری مقامات شامل ہیں۔
رپورٹ میں موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ کارروائی کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد زیادہ ہوسکتا ہے۔ یہ عہدیداروں کا اندازہ ہے، کسی اعلان شدہ فوجی شیڈول کی تصدیق نہیں۔
امریکی عہدیداروں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایرانی افواج امریکی فوجی حکمت عملی سے پہلے کی نسبت زیادہ واقف ہیں، جس سے تمام مطلوبہ اہداف تباہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ٹرمپ ماضی میں بھی بعض کارروائیوں کی حمایت کرتے دکھائی دیے، مگر آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئے۔ اس لیے موجودہ فوجی تیاریوں کو حملے کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔