واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اس کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے درمیان فیصلہ کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اتوار، 25 اکتوبر کو ایران پر حملے کا امکان مسترد کردیا۔
فاکس نیوز کے پروگرام ’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے سامنے سوال یہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا کارروائی کرکے اسے ’’مکمل طور پر ختم‘‘ کیا جائے۔
امریکی صدر اس سے قبل جمعے کو بھی ایران کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن کا امکان ظاہر کرچکے ہیں۔ انہوں نے سابقہ فوجی مہم ’ایپک فیوری‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دوبارہ کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس سے مشی گن روانگی کے موقع پر صحافیوں نے پوچھا کہ کیا ایران پر حملے اسی روز دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں؟ ٹرمپ نے پہلے جواب دیا کہ کیا وہ ایسی بات پیشگی بتائیں گے، پھر واضح کیا کہ اس روز کوئی حملہ نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے۔ انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے 2015 کے جوہری معاہدے پر بھی تنقید کی۔ ٹرمپ اپنی پہلی صدارتی مدت میں امریکا کو اس معاہدے سے الگ کرچکے ہیں۔
ان کے بیان میں ممکنہ نئے معاہدے کی شرائط یا فوجی کارروائی کے وقت کی تفصیل نہیں دی گئی۔ کسی نئے حملے کے حتمی فیصلے کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔