واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی انتخابی حمایت کے اعلان کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل کی انتخابی سیاست سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی انتخابی مہم کی نہ حمایت کریں گے اور نہ ہی مخالفت۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران امریکی نائب صدر سے سوال کیا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی کھل کر حمایت کے بعد کیا وہ بھی اسرائیلی وزیراعظم کی انتخابی مہم کی توثیق کرتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے کسی امیدوار کی حمایت انتہائی مؤثر سمجھی جاتی ہے اور اس کی اہمیت امریکی اور عالمی سیاست میں نمایاں ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اپنی توجہ امریکی سیاست اور آئندہ وسط مدتی انتخابات پر مرکوز ہے، اس لیے وہ اسرائیل کے انتخابی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔
جے ڈی وینس نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیتن یاہو کی حمایت کے خلاف بھی نہیں ہیں اور ان کی انتخابی مہم کی حمایت بھی نہیں کررہے۔ ان کے مطابق وہ اسرائیلی انتخابات میں کسی قسم کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتے۔
امریکی نائب صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے ہیں۔ ان انتخابات سے قبل امریکی صدر کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت اور نائب صدر کی انتخابی معاملات سے لاتعلقی نے دونوں امریکی رہنماؤں کے مؤقف میں ایک نمایاں فرق واضح کیا ہے۔
تاہم جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر براہ راست تنقید نہیں کی اور نہ ہی نیتن یاہو کی مخالفت کا اعلان کیا۔ انہوں نے صرف یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کی ترجیح امریکی انتخابات ہیں اور وہ اسرائیل کی داخلی انتخابی سیاست میں شامل نہیں ہوں گے۔