مواد پر جائیں

کوئٹہ 21°C فجر 5:18 ظہر 12:17 عصر 4:17 مغرب 5:55 عشاء 7:15
آج کا ای پیپر ⁦21⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

روس سے جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یوکرین پر زور

اوسلو میں امن مذاکرات کے بعد امریکی نمائندے کی ماسکو روانگی متوقع، یوکرین نے مستقبل کی سلامتی کے لیے مضبوط ضمانتوں کا مطالبہ کردیا۔

روس سے جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یوکرین پر زور
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر آمادہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ماسکو تنازع ختم کرنا چاہتا ہے اور اب یوکرین کو بھی مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی فوجی طاقت اور یوکرین میں اس کی پیش قدمی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس ایک بڑی فوجی طاقت ہے جو مسلسل آگے بڑھ رہی ہے اور یوکرین کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرچکی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق موجودہ صورتحال میں جنگ کو مزید طول دینے کے بجائے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ تاہم روس کی فوجی برتری اور جنگ ختم کرنے کی خواہش سے متعلق یہ ٹرمپ کا مؤقف ہے، جس پر یوکرین اور روس کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔
ٹرمپ کے تازہ بیان کے ساتھ ہی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سفارتی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی، جس میں ممکنہ امن معاہدے اور مستقبل کے سیکیورٹی انتظامات پر بات چیت ہوئی۔
مذاکرات میں امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی آن لائن شرکت کی۔ اس ملاقات کے بعد اسٹیو وٹکوف کی بدھ کو روس روانگی متوقع ہے، جہاں وہ ماسکو کی قیادت کو یوکرین کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور زیر غور تجاویز سے آگاہ کریں گے۔
ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر اسٹورے نے اوسلو میں ہونے والی بات چیت کو مثبت اور تعمیری قرار دیا۔ ان کے مطابق مذاکرات سے ایسی پیش رفت ممکن ہے جو مستقبل میں روس اور یوکرین کی اعلیٰ قیادت کے درمیان براہ راست ملاقات کی راہ ہموار کرے۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے بھی سفارتی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن عمل دوبارہ آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے یا جنگ بندی کا اعلان نہیں ہوا۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اوسلو میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ اس گفتگو میں روسی حملوں سے متعلق معلومات، یوکرین کے فضائی دفاع اور دیگر دفاعی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
زیلنسکی کے مطابق امریکا کی جانب سے روسی میزائل حملوں کے بارے میں پیشگی معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ اس سے قبل یوکرین نے شکایت کی تھی کہ واشنگٹن نے روسی فضائی حملوں سے متعلق بعض انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا بند کردی تھیں۔
یوکرینی صدر نے بتایا کہ مارکو روبیو سے گفتگو میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے میزائلوں کی فراہمی اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ان کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران امریکی وزیر خارجہ سے مزید رابطے کی توقع ہے۔
اوسلو مذاکرات کا ایک اہم موضوع جنگ ختم ہونے کے بعد یوکرین کی سلامتی کے لیے ضمانتیں فراہم کرنا بھی تھا۔ زیلنسکی کے مطابق زیر غور تجاویز میں نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی سیکیورٹی ضمانتوں کا تصور شامل ہے، جس کے تحت کسی ایک اتحادی ملک پر حملے کو تمام اتحادیوں پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ایسی ضمانتوں کی حتمی نوعیت، انہیں فراہم کرنے والے ممالک اور ان پر عمل درآمد کا طریقہ کار ابھی طے نہیں ہوا۔ یوکرین چاہتا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں مستقبل میں روسی حملوں سے تحفظ کے واضح انتظامات موجود ہوں۔
زیلنسکی نے کہا کہ سیکیورٹی سے متعلق مختلف تجاویز تحریری دستاویزات میں شامل کی گئی ہیں اور امریکی نمائندہ انہیں روسی حکام کے سامنے رکھے گا۔ یوکرین کی خواہش ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق اہم معاملات پر روس، یوکرین اور امریکا کے رہنما مشترکہ ملاقات کریں۔
مذاکرات کے دوران یوکرین کو امریکی دفاعی امداد کی فراہمی بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے یوکرین کو براہ راست ہتھیاروں کی فراہمی بڑی حد تک محدود کردی ہے، تاہم یورپی ممالک امریکی اسلحہ خرید کر یوکرین کو فراہم کرسکتے ہیں۔
معاملے سے واقف ایک ذریعے کے مطابق امریکی اسلحے کی بیشتر ترسیلات جاری ہیں، لیکن امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے یوکرین کی نئی درخواستوں کی منظوری نہیں دی۔ اس حوالے سے حتمی فیصلے کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ادھر روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حالیہ اقدامات پر امریکا اور یورپ میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ روسی ڈیزل کی خریداری اور بعض پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات پر امریکی کانگریس کے کچھ ارکان اور یورپی ممالک نے تشویش ظاہر کی ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں اب اہم مرحلہ ماسکو کے ساتھ مجوزہ تجاویز پر بات چیت ہوگا۔ فی الحال امریکی صدر یوکرین پر معاہدے کے لیے زور دے رہے ہیں، جبکہ کیف مستقبل کی سلامتی کے لیے قابل عمل ضمانتوں کو ضروری قرار دے رہا ہے۔