مواد پر جائیں

کوئٹہ 24°C فجر 5:17 ظہر 12:17 عصر 4:19 مغرب 5:57 عشاء 7:17
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

اسرائیل امریکا کو ایران کے خلاف دوبارہ جنگ میں دھکیل رہا ہے، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا اور اسرائیل کو نئی فوجی کارروائی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران گزشتہ جنگ کے بعد مزید مضبوط ہوا ہے۔
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکا کو ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
عباس عراقچی نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی قیادت امریکا کو ایران کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کی جانب لے جانا چاہتی ہے، تاہم کسی بھی نئی کارروائی سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں ممالک دوبارہ ایرانی قوم کو آزمانا چاہتے ہیں تو ایسا کرسکتے ہیں، لیکن اس مرتبہ انہیں زیادہ احتیاط سے کام لینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقصد ایران کو کمزور کرنا اور اس کی صلاحیتوں کو ختم کرنا تھا، لیکن ان کے بقول ایران اس جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر سامنے آیا ہے۔
عباس عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اسرائیل کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی اور اس میں امریکی شمولیت کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے مبینہ ارادوں سے متعلق ان کا مؤقف ایک سیاسی الزام ہے، جس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کسی نئی فوجی کارروائی کی مخصوص تاریخ یا منصوبے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے بنیادی طور پر گزشتہ جنگ کے نتائج اور مستقبل میں ممکنہ تصادم کے حوالے سے ایران کا مؤقف پیش کیا۔
ان کے تازہ بیان میں ایران کی دفاعی صلاحیت اور امریکی و اسرائیلی فوجی دباؤ کے مقابلے میں مزاحمت پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس بیان کے حوالے سے اسرائیل یا امریکا کا کوئی تازہ ردعمل متعلقہ رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں عباس عراقچی کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں دوبارہ فوجی تصادم کے امکانات اور اس کے اثرات پر تشویش برقرار ہے۔

اسرائیل امریکا کو ایران کے خلاف دوبارہ جنگ میں دھکیل رہا ہے، عباس عراقچی