مواد پر جائیں

کوئٹہ 15°C فجر 5:17 ظہر 12:17 عصر 4:18 مغرب 5:56 عشاء 7:16
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

نائن الیون حملوں کے ملزم خالد شیخ محمد کو سزائے موت کا خطرہ، امریکی عدالت کا اہم فیصلہ

امریکی سپریم کورٹ نے خالد شیخ محمد اور دو ساتھیوں کی درخواستیں مسترد کردیں، اعترافِ جرم کے بدلے سزائے موت سے بچانے والا معاہدہ بحال نہ ہوسکا۔

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی منصوبہ بندی کے مرکزی ملزم خالد شیخ محمد اور ان کے دو ساتھیوں کی درخواستیں مسترد کردیں، جس کے بعد انہیں سزائے موت سے بچانے والا اعترافِ جرم کا معاہدہ بحال نہیں ہوسکا۔
امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو خالد شیخ محمد، مصطفیٰ احمد الحوساوی اور ولید بن عطاش کی اپیلوں پر سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ تینوں ملزمان نے 2024 میں امریکی فوجی استغاثہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ان معاہدوں کے تحت ملزمان نے نائن الیون حملوں سے متعلق الزامات قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کے بدلے انہیں سزائے موت کے بجائے پیرول کے بغیر عمر قید دی جانا تھی۔ تاہم اس وقت کے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے معاہدوں کی منظوری کے صرف دو روز بعد انہیں منسوخ کردیا تھا۔
لائیڈ آسٹن کا مؤقف تھا کہ نائن الیون جیسے سنگین حملوں کے مقدمے میں سزائے موت سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار وزیر دفاع کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کے فیصلے کے بعد ملزمان اور امریکی حکومت کے درمیان ایک طویل قانونی تنازع شروع ہوگیا۔
ابتدائی طور پر فوجی عدالت نے معاہدوں کی منسوخی کو غیرقانونی قرار دیا تھا، جبکہ فوجی اپیلوں کی عدالت نے بھی اس مؤقف کی تائید کی۔ تاہم جولائی 2025 میں واشنگٹن کی وفاقی اپیل کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو کے مقابلے میں ایک ووٹ سے فیصلہ دیا کہ وزیر دفاع کو معاہدے واپس لینے کا قانونی اختیار حاصل تھا۔
خالد شیخ محمد اور ان کے ساتھیوں کے وکلا نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وزیر دفاع نے معاہدے منسوخ کرنے میں تاخیر کی اور ان کی مداخلت فوجی قانون کے تقاضوں کے خلاف تھی۔
تاہم سپریم کورٹ نے 19 اکتوبر کو درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نچلی اپیل کورٹ کا فیصلہ برقرار رہنے دیا۔ عدالت نے معاہدوں کی قانونی حیثیت پر تفصیلی فیصلہ دینے کے بجائے مقدمہ سننے سے انکار کیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق جسٹس بریٹ کیوانا اس فیصلے میں شریک نہیں ہوئے۔
خالد شیخ محمد پر الزام ہے کہ انہوں نے 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں مسافر طیاروں کے اغوا اور انہیں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور امریکی محکمہ دفاع کی عمارت پینٹاگون سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خالد شیخ محمد کو مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعدازاں انہیں امریکی خفیہ حراستی مراکز میں رکھا گیا اور 2006 میں کیوبا میں قائم گوانتاناموبے کے امریکی حراستی مرکز منتقل کردیا گیا۔
نائن الیون حملوں سے متعلق مقدمہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ ان میں دورانِ حراست تفتیش کے طریقوں، تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے شواہد کے استعمال اور فوجی عدالتی کارروائیوں سے متعلق اختلافات شامل ہیں۔
امریکی فوجی عدالت نے خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان کے مقدمے کی کارروائی جون 2028 میں شروع کرنے کا شیڈول مقرر کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اعترافِ جرم کے معاہدوں کے ذریعے مقدمہ ختم کرنے کا راستہ فی الحال بند ہوگیا ہے۔
نائن الیون حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین بھی ان معاہدوں کے معاملے پر مختلف آرا رکھتے ہیں۔ بعض خاندان مکمل عدالتی کارروائی اور ممکنہ سخت سزا کے حامی ہیں، جبکہ دیگر سمجھتے ہیں کہ اعترافِ جرم کے ذریعے مقدمے کا اختتام طویل انتظار کے بعد انصاف کی جانب اہم قدم ہوسکتا تھا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطلب خالد شیخ محمد کو سزائے موت سنایا جانا نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کے خلاف مقدمہ جاری رہے گا، جس میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزائے موت کا امکان موجود ہے۔

نائن الیون حملوں کے ملزم خالد شیخ محمد کو سزائے موت کا خطرہ، امریکی عدالت کا اہم فیصلہ