واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ایک نیا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خود معلوم نہیں کہ اس وقت ایران میں کس سے مذاکرات کیے جارہے ہیں۔
امریکی ریاست کنساس میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت نے امریکا سے حملے روکنے کی درخواست کی ہے، تاہم اس کے لیے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے ارادے سے مکمل طور پر دستبردار ہونا ہوگا۔
امریکی صدر نے اپنی تقریر میں ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت سے متعلق بھی متعدد دعوے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی پہلی اور دوسری سطح کی قیادت ختم ہوچکی ہے، جبکہ ملک کے اہم ریڈار اور فضائی دفاعی نظام بھی تباہ کیے جاچکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران اپنے کئی اہم فوجی کمانڈروں سے محروم ہوچکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت میں باقی رہ جانے والے افراد اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ ان کا انجام بھی سابقہ رہنماؤں جیسا نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے افراد کی شناخت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا اظہار کیا۔ ان کے بیان سے یہ سوال سامنے آیا ہے کہ موجودہ حالات میں تہران کی جانب سے بات چیت میں کون نمائندگی کررہا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی مخصوص وقت یا ممکنہ معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن مذاکرات کی شرائط پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایران اس سے قبل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے اپنی شرائط پیش کرچکا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران کی تجویز اب بھی موجود ہے اور واشنگٹن کے جواب کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ایرانی شرائط میں بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا، تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور خطے میں فوجی کارروائیاں روکنا شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو مذاکرات کا بنیادی موضوع بنانا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی قیادت اور دفاعی نظام کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق ٹرمپ کے تازہ دعوؤں کی اس رپورٹ میں آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔