اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کی قیادت کو فوری طور پر اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں اور انہیں جلد از جلد وفاقی دارالحکومت پہنچنے کا کہا ہے تاکہ موجودہ سیاسی صورتحال پر مشترکہ مشاورت کی جاسکے۔
اپوزیشن اتحاد کے مجوزہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ، صوبائی انتظامی صورتحال اور ملک میں پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے آئندہ لائحہ عمل اور حکومت کے فیصلوں کے خلاف ممکنہ سیاسی و قانونی اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔
عدالتوں، پارلیمنٹ اور عوامی سطح پر جدوجہد کا فیصلہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد کو کسی ایک فورم تک محدود نہ رکھیں۔
انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ حکومتی اقدامات کے خلاف آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے جائیں، جبکہ پارلیمنٹ کے اندر بھی مؤثر انداز میں مؤقف پیش کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کی جانب سے عدالتی فورمز، پارلیمانی کارروائی اور عوامی احتجاج کے ذریعے سیاسی جدوجہد آگے بڑھانے پر مشاورت جاری ہے۔
محمود خان اچکزئی کی ہدایات کے بعد تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے متعلقہ عدالتی فورمز سے رجوع کرنے کی تیاری بھی کی جارہی ہے۔
اپوزیشن اتحاد کی آئندہ حکمت عملی اہم
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ نے وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی اختلافات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتیں صوبے میں کیے گئے اقدامات کی مخالفت کررہی ہیں، جبکہ اپوزیشن اتحاد اس معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے لیے رابطے تیز کررہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں آئندہ سیاسی سرگرمیوں، ممکنہ احتجاج اور قانونی کارروائیوں کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔
تاہم اپوزیشن اتحاد کی جانب سے کسی نئے احتجاجی شیڈول یا حتمی حکمت عملی کا باضابطہ اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔