مواد پر جائیں

کوئٹہ 29°C فجر 5:13 ظہر 12:19 عصر 4:26 مغرب 6:05 عشاء 7:25
آج کا ای پیپر ⁦10⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

افغان طالبان کو اسحاق ڈار کی سخت وارننگ، نتائج سے خبردار کردیا

افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگی، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو طالبان حکومت کو بھی نتائج بھگتنا پڑیں گے، نائب وزیراعظم

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان طالبان حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو طالبان حکام کو بھی اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

افغان طالبان کو اسحاق ڈار کی سخت وارننگ، نتائج سے خبردار کردیا

اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان حکومت سے بنیادی مطالبہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان متعدد مواقع پر افغان حکام کے ساتھ یہ معاملہ اٹھا چکا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کا مطالبہ کرتا رہا ہے، لیکن اب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔

افغانستان سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ

اسحاق ڈار نے بتایا کہ اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

ان کے مطابق افغان حکام دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، جبکہ سرحد پار سے آنے والے دہشت گرد پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر کی گئی تھی۔ انہوں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ دہشت گرد عناصر کو اسلحے سمیت کسی بھی قسم کی معاونت فراہم نہ کی جائے۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر

اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ پاکستان اس خطرے کے خلاف طویل عرصے سے جدوجہد کررہا ہے اور اسے بھاری جانی و معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے، جبکہ مسلسل بدامنی نے ملکی معیشت اور بین الاقوامی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نئی حکمت عملی پر عمل کیا جارہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل کارروائیاں کررہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے عزم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر آپریشن کیے جارہے ہیں۔

وفاق اور صوبوں کو مشترکہ اقدامات کی ضرورت

اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے وژن عزم استحکام کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا سدباب کرنا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے اور علاقائی امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔

بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے مؤقف کو دہرایا۔

وزیر خارجہ نے ایک بار پھر کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی خود طالبان حکومت کے مفاد میں ہے۔ اگر افغان حکام نے اس مسئلے پر سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں انہیں بھی اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔