مواد پر جائیں

کوئٹہ 17°C فجر 5:19 ظہر 12:17 عصر 4:16 مغرب 5:54 عشاء 7:14
آج کا ای پیپر ⁦21⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بلوچستان

بلوچستان میں ناقص خوراک کی فروخت پر کارروائیاں، 35 دکانوں اور ریسٹورنٹس کو جرمانے

کوئٹہ، خضدار، کچلاک اور پشین میں معائنوں کے دوران ملاوٹ شدہ دودھ، زائدالمیعاد اشیا اور صفائی کے ناقص انتظامات سامنے آئے، 47 اصلاحی نوٹس بھی جاری۔

کوئٹہ: بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے صوبے کے مختلف علاقوں میں خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کارروائیاں کرتے ہوئے 35 دکانوں، ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباروں پر جرمانے عائد کیے ہیں، جبکہ معمولی خلاف ورزیوں پر 47 اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
فوڈ اتھارٹی کے مطابق کوئٹہ، خضدار، کچلاک اور پشین میں ریسٹورنٹس، بیکریوں، دودھ کی دکانوں اور کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے دیگر کاروباروں کا معائنہ کیا گیا۔ اس دوران بعض مقامات پر زائدالمیعاد اشیا کی موجودگی، دودھ میں ملاوٹ، صفائی کے ناقص انتظامات اور کاروباری لائسنس سے متعلق خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف ریسٹورنٹس اور بیکریوں کا معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر تین ریسٹورنٹس اور ایک بیکری کو جرمانے کیے گئے۔
معائنے کے دوران بعض مقامات پر کھلے کوڑے دان، نکاسی آب کے ناقص انتظامات، مکھیوں کی موجودگی اور کارکنوں کی ذاتی صفائی میں غفلت پائی گئی۔ کچھ جگہوں پر زنگ آلود ریفریجریٹرز بھی استعمال کیے جارہے تھے، جبکہ کھانے پینے کی اشیا کو محفوظ رکھنے کے مقررہ اصولوں پر عمل نہیں ہورہا تھا۔
فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے مختلف دکانوں اور بیکریوں سے زائدالمیعاد مصنوعات بھی ضبط کیں۔ ان میں بریڈ، مشروبات، کافی، دیسی گھی، جوس، اسنیکس، بسکٹ، کیک اور فریش کریم شامل تھیں۔
حکام کے مطابق بعض مصنوعات پر تیاری اور استعمال کی آخری تاریخ درج نہیں تھی۔ اس کے علاوہ مصالحہ جات میں ممنوعہ چائنیز نمک کے استعمال پر بھی متعلقہ کاروباروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
دودھ میں ملاوٹ کی شکایات پر فوڈ اتھارٹی کی ملک سیفٹی ٹیموں نے کوئٹہ کے مٹھا چوک، پشتون آباد اور فقیر محمد روڈ پر دودھ اور دہی فروخت کرنے والی دکانوں کا معائنہ کیا۔
اس دوران دودھ اور دہی کے نمونوں کے موقع پر ٹیسٹ کیے گئے۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق بعض نمونوں میں پانی اور اسکمڈ ملک پاؤڈر کی مقررہ حد سے زیادہ مقدار پائی گئی، جس پر تین دودھ فروشوں کو جرمانے کیے گئے، جبکہ دو دیگر دکانوں کو معمولی خامیاں دور کرنے کے لیے اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے۔
خضدار میں فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے آغا مارکیٹ، عمر فاروق چوک، میر چاکر خان روڈ اور ملحقہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والی دکانوں اور دیگر کاروباروں کا معائنہ کیا۔
معائنے کے دوران دو کاروباروں کے پاس خوراک کی فروخت کے لیے مطلوبہ مؤثر لائسنس موجود نہیں تھے، جس پر انہیں جرمانے کیے گئے۔ متعلقہ مالکان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
کچلاک میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے بازار، زیارت روڈ اور چمن روڈ پر کارروائیاں کیں۔ حکام کے مطابق 20 کاروباروں کے خلاف اس وجہ سے کارروائی کی گئی کہ وہ پہلے نوٹس اور تنبیہ کے باوجود مطلوبہ لائسنس حاصل کیے بغیر خوراک کا کاروبار کررہے تھے۔
اسی طرح پشین کے علاقے قلعہ بٹیزئی میں خصوصی معائنوں کے دوران پانچ دکانوں اور دیگر کاروباروں پر جرمانے عائد کیے گئے۔ حکام کے مطابق ان مقامات پر صفائی کے ناقص انتظامات، حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور زائدالمیعاد اشیا کی موجودگی سامنے آئی۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ کارروائیوں کا مقصد شہریوں کو غیر معیاری اور غیر محفوظ خوراک کی فروخت روکنا ہے۔ ان کے مطابق ریسٹورنٹس، بیکریوں اور دکانوں پر خوراک کی تیاری، اسے محفوظ رکھنے اور فروخت کرنے کے دوران مقررہ اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔
فوڈ اتھارٹی نے متعلقہ مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ صفائی کے انتظامات بہتر بنائیں، زائدالمیعاد مصنوعات کی فروخت سے گریز کریں اور کاروباری لائسنس سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کریں۔
حکام کے مطابق معمولی نوعیت کی خامیوں پر اصلاحی نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں جرمانوں سمیت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں خوراک کے معیار کی نگرانی جاری رہے گی اور ملاوٹ، زائدالمیعاد اشیا کی فروخت یا شہریوں کی صحت کے لیے خطرہ بننے والی خلاف ورزیوں پر متعلقہ کاروباروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

بلوچستان میں ناقص خوراک کی فروخت پر کارروائیاں، 35 دکانوں اور ریسٹورنٹس کو جرمانے