مواد پر جائیں

کوئٹہ 17°C فجر 5:19 ظہر 12:17 عصر 4:16 مغرب 5:54 عشاء 7:14
آج کا ای پیپر ⁦21⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بلوچستان

بلوچستان میں پولیو وائرس کی نگرانی کے نتائج حوصلہ افزا، تمام 23 نمونے منفی

صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے انسداد پولیو ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بچوں کی ویکسینیشن کا عمل جاری رکھنے پر زور دیا۔

کوئٹہ: بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں سے حاصل کیے گئے تمام 23 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی، جسے محکمہ صحت نے حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق ماحولیاتی نمونوں کے نتائج منفی آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں پولیو کی روک تھام کے لیے جاری اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی مہم جاری رکھے گی۔
بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو سال کے دوران پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق محکمہ صحت، پولیو ٹیموں اور متعلقہ اداروں کی مسلسل کوششوں سے صوبے میں بیماری کی روک تھام کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے انسداد پولیو مہم میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکریٹری کی نگرانی کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف محکموں کے درمیان رابطوں اور مہم کی باقاعدہ نگرانی سے ویکسینیشن کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں جاری رکھنے میں مدد ملی۔
انہوں نے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے کے کئی علاقوں میں دشوار گزار راستوں اور سیکیورٹی کے مسائل کے باوجود ٹیمیں بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہی ہیں۔
بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آبادیوں تک رسائی انسداد پولیو مہم کے لیے ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ بعض علاقوں میں طویل فاصلے، محدود سہولیات اور سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث پولیو ٹیموں کو مشکلات پیش آتی ہیں، تاہم حفاظتی مہم کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے والدین کے تعاون کو بھی ضروری قرار دیا اور کہا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی قطروں کی ہر مہم میں شرکت اہم ہے۔
اس سے قبل 15 اکتوبر کو بھی بلوچستان کے تمام 23 ماحولیاتی نمونوں کے نتائج منفی آنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیش رفت پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔
وزیراعلیٰ نے پولیو مہم کے دوران جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ صوبائی حکومت بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ پولیو کی نگرانی کے لیے مختلف علاقوں کے سیوریج کے پانی سے ماحولیاتی نمونے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ان نمونوں کے معائنے سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ متعلقہ علاقوں میں پولیو وائرس موجود ہے یا نہیں۔
تمام 23 نمونوں کے نتائج منفی آنے کا مطلب یہ ہے کہ ان مخصوص نمونوں میں وائرس نہیں ملا۔ تاہم ان نتائج کو پورے صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ وائرس کی مسلسل نگرانی اور بچوں کی ویکسینیشن ضروری ہے۔
محکمہ صحت کے لیے اب اہم مرحلہ اس پیش رفت کو برقرار رکھنا اور ایسے بچوں تک پہنچنا ہے جو کسی وجہ سے گزشتہ حفاظتی مہمات میں قطرے نہیں پی سکے۔
صوبائی حکومت نے پولیو کے خاتمے تک حفاظتی مہم اور نگرانی کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے مطابق بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے پولیو ٹیموں، متعلقہ اداروں اور والدین کا تعاون ضروری ہے۔

بلوچستان میں پولیو وائرس کی نگرانی کے نتائج حوصلہ افزا، تمام 23 نمونے منفی