کوئٹہ: بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور انہیں جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تحت صوبے میں 32 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
پروگرام سے متعلق تفصیلات کے مطابق ترقیاتی سرگرمیوں کو مقامی سطح پر روزگار کی فراہمی سے منسلک کیا جارہا ہے تاکہ مختلف علاقوں کے نوجوانوں کو کام کے مواقع میسر آسکیں۔ اس کے ساتھ فنی تربیت کو بھی منصوبے کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔
بی ایس ڈی آئی کے تحت قائم آئی ٹی حب سینٹرز میں 8 ہزار طلبہ و طالبات کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتیں سکھانا اور انہیں روزگار کی بدلتی ہوئی ضروریات کے لیے تیار کرنا ہے۔
پروگرام میں خواتین کی معاشی خودمختاری کو بھی اہمیت دی جارہی ہے۔ خواتین اور نوجوانوں کے لیے مختلف تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے ایسی مہارتیں فراہم کرنے پر توجہ ہے جن کی مدد سے وہ ملازمت یا اپنا کاروبار شروع کرنے کے بہتر مواقع حاصل کرسکیں۔
بلوچستان کے کئی اضلاع میں روزگار اور فنی تربیت کی سہولتوں کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ خصوصاً دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمت تلاش کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
ایسی صورتحال میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ تربیتی پروگراموں کو منسلک کرنا نوجوانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے، تاہم اس کا انحصار منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد اور تربیت مکمل کرنے والوں کو عملی روزگار ملنے پر ہوگا۔
سامنے آنے والی معلومات میں 32 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ان میں مستقل ملازمتوں، عارضی کام اور خود روزگاری کے مواقع کی تعداد الگ الگ کتنی ہے۔
اسی طرح یہ تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں کہ صوبے کے کن اضلاع میں کتنے افراد کو روزگار ملا ہے اور ان مواقع سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد کس بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔
آئی ٹی تربیت کے لیے 8 ہزار طلبہ و طالبات کا ہدف سامنے آیا ہے، تاہم تربیت کی مدت، داخلے کی شرائط، منتخب اضلاع اور درخواستیں جمع کرانے کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
پروگرام کے تحت خواتین کے لیے ہنرمندی کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن ان سرگرمیوں میں شرکت کرنے والی خواتین کی تعداد اور تربیت کے بعد روزگار حاصل کرنے والوں کے اعداد و شمار واضح نہیں کیے گئے۔
بلوچستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بہتر روزگار اور فنی تربیت کی خواہش رکھتی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ایسی سہولتوں کی فراہمی سے مقامی افرادی قوت کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
بی ایس ڈی آئی پروگرام کے نتائج کا زیادہ واضح اندازہ اس وقت ہوگا جب روزگار حاصل کرنے والے افراد، تربیت مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات اور مختلف اضلاع میں منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق تفصیلی معلومات سامنے آئیں گی۔
صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کے ساتھ روزگار اور ہنرمندی کے مواقع بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے ان اقدامات کے عملی فوائد کا انحصار تربیت کے معیار، ملازمتوں کی نوعیت اور منصوبوں کے تسلسل پر ہوگا۔