مواد پر جائیں

کوئٹہ 14°C فجر 5:18 ظہر 12:17 عصر 4:17 مغرب 5:55 عشاء 7:15
آج کا ای پیپر ⁦20⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بلوچستان

بلوچستان کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی معائنہ کرنے کا حکم

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر صوبے بھر میں خستہ حال اسکولوں کی نشاندہی کا فیصلہ، غیر محفوظ عمارتوں میں تدریسی سرگرمیاں فوری بند کرنے کی ہدایت۔

بلوچستان کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی معائنہ کرنے کا حکم
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر معائنہ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ محکمہ سیکنڈری اسکولز بلوچستان نے تمام ضلعی افسرانِ تعلیم کو خستہ حال اور غیر محفوظ تعلیمی عمارتوں کی نشاندہی کرکے فوری حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ بلوچستان لعل جان جعفر کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ایسے اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جہاں عمارت کی حالت انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
یہ ہدایات بلوچستان اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے دیے گئے احکامات اور خیبرپختونخوا میں اسکول کی عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے کے تناظر میں جاری کی گئی ہیں۔ محکمہ تعلیم نے ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کو ضروری قرار دیا ہے۔
ہدایت نامے کے مطابق تمام ضلعی افسرانِ تعلیم اپنے متعلقہ اضلاع میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں، کلاس رومز اور دیگر حصوں کا فوری اور جامع معائنہ کریں گے۔ اس دوران ایسی عمارتوں کی خصوصی نشاندہی کی جائے گی جو خستہ حالی، ساختی کمزوری یا کسی دوسرے سبب سے طلبہ اور عملے کے لیے غیر محفوظ ہوسکتی ہیں۔
معائنے کے دوران دیواروں میں نمایاں دراڑوں، خراب یا کمزور چھتوں، بوسیدہ ڈھانچوں، کمزور بنیادوں اور دیگر ممکنہ خطرات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی عمارت کی غیر محفوظ حالت کو بروقت سامنے لایا جاسکے۔
سیکرٹری لعل جان جعفر نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی اسکول کی عمارت، کلاس روم یا اس کا کوئی حصہ غیر محفوظ محسوس ہو تو وہاں تدریسی سرگرمیاں اور دیگر امور فوری طور پر بند کردیے جائیں۔ ایسی صورت میں طلبہ، اساتذہ اور عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہوگی۔
ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر محفوظ قرار دی گئی عمارت یا اس کے متاثرہ حصے میں داخلے پر اس وقت تک سخت پابندی برقرار رکھی جائے جب تک مجاز تکنیکی حکام اس کی ساختی حالت کا باقاعدہ معائنہ کرکے اسے استعمال کے لیے محفوظ قرار نہ دے دیں۔
محکمہ تعلیم نے ضلعی افسران کو خطرناک عمارتوں کے بارے میں اسکول وار تفصیلی رپورٹس مرتب کرنے کا بھی پابند کیا ہے۔ ہر رپورٹ میں عمارت کو لاحق خطرے کی نوعیت اور شدت، متاثر ہونے والے طلبہ کی تعداد، فوری طور پر کیے گئے حفاظتی اقدامات اور مرمت، بحالی یا نئی تعمیر کی ضروریات درج کرنا ہوں گی۔
تمام اضلاع سے موصول ہونے والی رپورٹس کو یکجا کرکے ترجیحی بنیادوں پر محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان کو بھجوایا جائے گا۔ اس کے بعد متعلقہ تفصیلات محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ ضرورت کے مطابق عمارتوں کی تکنیکی جانچ اور مزید کارروائی ممکن بنائی جاسکے۔
سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ نے اس معاملے کو انتہائی ہنگامی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی غیر محفوظ اسکول کی عمارت کے حوالے سے بروقت حفاظتی اقدامات نہ کرنے، غفلت برتنے یا احکامات پر عمل درآمد میں تاخیر کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی کوتاہی کی صورت میں ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تمام ضلعی افسرانِ تعلیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احکامات پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں اور تعلیمی اداروں میں طلبہ اور عملے کے لیے محفوظ ماحول برقرار رکھنے کو ترجیح دیں۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری احکامات کے تحت صوبے بھر میں اسکولوں کی عمارتوں کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم فی الحال غیر محفوظ اسکولوں کی مجموعی تعداد یا معائنوں کی تکمیل کے لیے کسی مخصوص تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔