اسلام آباد: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے وسیع رقبے اور طویل جغرافیائی فاصلوں کے باعث انتظامی امور چلانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ عوام کو بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی کے لیے مزید انتظامی اکائیوں، مؤثر بلدیاتی اداروں اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں صنوبر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام علاقوں کے مسائل صرف صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے حل کرنا آسان نہیں۔ موجودہ انتظامی نظام کا جائزہ لے کر اسے عوامی ضروریات کے مطابق بہتر بنانا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات پر جاری گفتگو خوش آئند ہے، لیکن اس بحث کو سیمینارز تک محدود رکھنے کے بجائے پارلیمنٹ میں لے جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اہم آئینی اور انتظامی فیصلوں کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ناگزیر ہے۔
انہوں نے بلوچستان کی جغرافیائی صورتحال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر چھ سے سات گھنٹوں میں مکمل ہوسکتا ہے، جبکہ بلوچستان کے بعض اضلاع کے اندر ہی ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے میں دس گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے اپنے دورِ وزارتِ داخلہ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ خضدار کے علاقے سارونہ کے قریب ایک مزار پر خودکش حملے کے بعد متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو جائے وقوعہ تک پہنچنے کے لیے تقریباً نو گھنٹے درکار تھے۔ ان کے مطابق اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے اضلاع میں ہنگامی حالات سے نمٹنا کس قدر مشکل ہوسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے انتظامی مشکلات کم کرنے کے لیے صوبے میں ڈویژنز کی تعداد آٹھ سے بڑھا کر بارہ اور اضلاع کی تعداد تقریباً 36 سے بڑھا کر 41 کی ہے۔ ان کے بقول اس اقدام کا مقصد سرکاری خدمات کو عوام کے قریب لانا اور انتظامی معاملات کو آسان بنانا ہے۔
وسائل کی تقسیم کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت آبادی کے ساتھ صوبوں کے رقبے، انتظامی ضروریات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر آنے والے اخراجات کو بھی مناسب اہمیت ملنی چاہیے۔
بلدیاتی نظام سے متعلق وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان میں موجودہ بلدیاتی اداروں کی مدت 8 فروری کو مکمل ہورہی ہے۔ صوبائی حکومت الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر آئندہ انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کرچکی ہے تاکہ مقامی سطح پر جمہوری عمل جاری رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ گلیوں، سڑکوں اور دیگر مقامی مسائل کے حل کی ذمہ داری بلدیاتی نمائندوں کو ملنی چاہیے، جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو قانون سازی اور پالیسی سازی پر توجہ دینی چاہیے۔
قومی سیاست میں بلوچستان کی نمائندگی کا ذکر کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے سے قومی اسمبلی میں منتخب ارکان کی تعداد پنجاب کے بعض بڑے ڈویژنز کی نمائندگی سے بھی کم ہے۔ انہوں نے مرکزی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کی ترقیاتی اور انتظامی ضروریات کو زیادہ توجہ دیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کے لیے سیاسی جماعتوں، متعلقہ اداروں اور بیوروکریسی کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق بلوچستان کو ایسے عملی فیصلوں کی ضرورت ہے جن سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو سرکاری خدمات تک بہتر رسائی حاصل ہوسکے۔