مواد پر جائیں

کوئٹہ 24°C فجر 5:17 ظہر 12:17 عصر 4:19 مغرب 5:57 عشاء 7:17
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

روس پر یوکرین کا ایک ہزار سے زائد ڈرونز سے حملہ، تیل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی

ماسکو: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں فضائی حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ یوکرین نے روس کے مختلف علاقوں کو بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات، صنعتی گوداموں اور دیگر مراکز میں آگ بھڑک اٹھی۔ روسی حکام کے مطابق حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے، جبکہ متعدد رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب روس کے 15 علاقوں، روس کے زیر قبضہ یوکرینی جزیرہ نما کریمیا اور بحیرہ اسود کے اوپر مجموعی طور پر ایک ہزار 15 یوکرینی ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ یہ روس کے خلاف یوکرین کی بڑی ڈرون کارروائیوں میں سے ایک قرار دی جارہی ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف کے مطابق حملوں کے بعد شہر کے آئل ٹرمینل، روچی آئل ڈپو اور کولپنسکی ضلع میں واقع صنعتی گوداموں میں آگ لگ گئی۔ متاثرہ مقامات پر ہنگامی خدمات کو متحرک کیا گیا، تاہم تنصیبات کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
روسی آن لائن کاروباری کمپنی اوزون نے بھی اپنے لاجسٹکس مرکز میں آگ لگنے کی اطلاع دی۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنی وی کے نے بتایا کہ لینن گراڈ کے علاقے میں اس کے ڈیٹا سینٹر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں۔
لینن گراڈ کے گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکو نے بتایا کہ علاقے میں تقریباً 145 ڈرونز مار گرائے گئے۔ حملوں کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی اور لگ بھگ 20 ہزار افراد بجلی سے محروم ہوگئے۔
فضائی حملوں کے باعث سینٹ پیٹرزبرگ کے مرکزی ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ حفاظتی اقدامات کے تحت فضائی آپریشن میں خلل پڑا، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب روسی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے معاملے پر امریکا اور یوکرین کے درمیان اختلافات سامنے آرہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے تیل اور توانائی کے مراکز پر یوکرینی حملوں پر تنقید کی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ روس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ایسے اقدامات ماسکو کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی جنگ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس پر توانائی کی تنصیبات کے خلاف حملے جاری رکھنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ توانائی جنگ بندی کے باوجود روس نے یوکرین کے تیل، گیس اور بجلی کے شعبوں کو نشانہ بنایا۔
زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرین کے توانائی کے شعبے پر 76 حملے کیے گئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس کے خلاف پابندیوں میں نرمی سے ماسکو کی جنگی صلاحیت کو تقویت مل سکتی ہے۔
یوکرینی صدر نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ دوبارہ شروع ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ سفارتی رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کے اگلے مراحل پر بات چیت ہوئی ہے۔
ادھر یوکرین میں بھی روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دارالحکومت کیف کے میئر ویتالی کلیچکو کے مطابق ایک روسی حملے میں خاتون ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے۔ حملے سے میٹرو اسٹیشن، طبی مرکز، غیر رہائشی عمارتوں اور 25 منزلہ رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔
جنوبی شہر زاپوریژیا میں روسی حملوں کے دوران ایک خاتون ہلاک اور کم از کم دو افراد زخمی ہوئے، جن میں چھ سالہ بچی بھی شامل ہے۔ یوکرینی صدر کے مطابق وولین کے علاقے میں رہائشی عمارتوں پر حملوں سے مزید دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ روس نے گزشتہ ہفتے کے دوران یوکرین پر تقریباً دو ہزار 700 حملہ آور ڈرونز، ایک ہزار 700 فضائی بم اور 66 میزائل داغے، جن میں زیادہ تر بیلسٹک میزائل تھے۔
روس اور یوکرین کی جانب سے سامنے آنے والے تازہ اعداد و شمار سے دونوں ممالک کے درمیان فضائی جنگ کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔ تاہم ڈرونز کی تعداد، تباہ شدہ اہداف اور فوجی نقصانات سے متعلق فریقین کے تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

 

روس پر یوکرین کا ایک ہزار سے زائد ڈرونز سے حملہ، تیل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی