انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی سے متعلق ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اشتہارات کے ذریعے موبائل فون اور کمپیوٹر کو صارف کے کسی اشتہار پر کلک کیے بغیر بھی جاسوسی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ محققین نے ایسے نظام کی نشاندہی کی ہے جو عام اشتہارات کی آڑ میں مخصوص افراد کی شناخت، نگرانی اور ان کی ڈیوائسز میں جاسوسی کا سافٹ ویئر پہنچانے کے لیے استعمال ہوا۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے وابستہ ڈیجیٹل حقوق کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب اور اشتہارات کی سیکیورٹی پر کام کرنے والی کمپنی کونفیئنٹ کی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی اشتہاری کمپنی ڈسکور ٹیک (Discover-Tech) نے عالمی آن لائن اشتہاری نظام کو نگرانی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ کمپنی کے اشتہارات ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ویب سائٹس اور 75 ہزار موبائل ایپلی کیشنز تک پہنچے۔ ان اشتہارات کے ذریعے صارفین کی ڈیجیٹل شناخت معلوم کرنے، ان کی سرگرمیوں کا سراغ لگانے اور بعض صورتوں میں مخصوص ڈیوائسز کو جاسوسی کے لیے نشانہ بنانے کی سہولت فراہم کی گئی۔
تحقیق میں سامنے آنے والے طریقہ کار کو ’ایڈفیکشن‘ (AdFection) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ آن لائن اشتہارات اور جاسوسی کے سافٹ ویئر کو یکجا کرکے کام کرتا ہے۔ محققین کے مطابق اس نوعیت کے حملوں کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ شخص کو کسی مشکوک لنک پر کلک کرنے، فائل ڈاؤن لوڈ کرنے یا کوئی پیغام کھولنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس طریقے کو سائبر سیکیورٹی کی اصطلاح میں ’زیرو کلک‘ حملہ کہا جاتا ہے۔ بعض مخصوص تکنیکی کمزوریوں کی موجودگی میں نقصان دہ مواد صرف اشتہار لوڈ ہونے کے دوران ڈیوائس کو متاثر کرسکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر آن لائن اشتہار دیکھنے سے موبائل یا کمپیوٹر لازماً ہیک ہوجاتا ہے۔
محققین کے مطابق ڈسکور ٹیک نے ’کنٹرولیم‘ (Controlium) نامی ایک پلیٹ فارم استعمال کیا، جس کے ذریعے مختلف اشتہاری نیٹ ورکس سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر افراد کی شناخت اور ان کی ڈیوائسز کی تفصیلات معلوم کی جاسکتی تھیں۔
یہ نظام صارفین کے آئی پی ایڈریس، موبائل ایڈورٹائزنگ آئی ڈی اور براؤزر سے متعلق معلومات استعمال کرکے انہیں شناخت کرنے میں مدد دیتا تھا۔ اس کے بعد مخصوص افراد کو ایسے اشتہارات دکھائے جاسکتے تھے جن کے ذریعے جاسوسی کے مزید اقدامات ممکن ہوں۔
تحقیقات کے مطابق ڈسکور ٹیک کی خدمات سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں اسرائیلی جاسوسی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی کینڈیرو (Candiru) بھی شامل تھی، جسے امریکی حکومت پہلے ہی تجارتی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرچکی ہے۔
سٹیزن لیب کے مطابق کینڈیرو سے منسلک جاسوسی سافٹ ویئر نے 2024 اور 2025 کے دوران قطر میں ایک نشریاتی ادارے کے کم از کم 45 ونڈوز کمپیوٹرز کو متاثر کیا۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے متعلقہ ادارے کے نیٹ ورک ریکارڈ کا تکنیکی جائزہ لیا گیا۔
محققین نے واضح کیا کہ ڈسکور ٹیک کے تمام اشتہارات جاسوسی سافٹ ویئر نصب کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوئے۔ زیادہ تر سرگرمیوں کا تعلق صارفین کی شناخت اور نگرانی سے تھا، جبکہ براہ راست جاسوسی سافٹ ویئر پہنچانے والے اشتہارات مجموعی تعداد کا ایک چھوٹا حصہ تھے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق اس اشتہاری نیٹ ورک کی رسائی انتہائی حساس اداروں کے نیٹ ورکس تک بھی تھی۔ ان میں اقوام متحدہ، نیٹو، یورپی کمیشن، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور مختلف ممالک کے سرکاری اداروں کے نیٹ ورکس شامل تھے۔
تاہم کسی ادارے کے نیٹ ورک پر ایسے اشتہارات دکھائی دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اس ادارے کے کمپیوٹر لازماً ہیک ہوگئے تھے۔ تحقیق میں اشتہارات کی موجودگی، صارفین کی نگرانی اور تصدیق شدہ جاسوسی حملوں کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔
کونفیئنٹ کے شریک بانی جیروم ڈانگو کے مطابق متعلقہ اشتہاری نظام روزانہ کم از کم ایک کروڑ اشتہارات جاری کررہا تھا۔ ان کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں بلکہ ممکنہ طور پر سیکڑوں ملین افراد کسی نہ کسی سطح پر اس نیٹ ورک کی رسائی میں آئے، لیکن اس تعداد کو ہیک ہونے والے صارفین کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔
تحقیق میں فلسطینی علاقوں میں اشتہاری نیٹ ورک کی وسیع موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی۔ محققین کے مطابق وہاں مختلف ویب سائٹس پر ان اشتہارات کی کثرت نے صارفین کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی نگرانی کے امکانات بڑھا دیے تھے۔
آن لائن اشتہارات کا موجودہ نظام بڑی حد تک خودکار نیلامی پر کام کرتا ہے۔ جب کوئی صارف کسی ویب سائٹ یا ایپ کو کھولتا ہے تو اشتہارات کے لیے دستیاب جگہ مختلف کمپنیوں کو پیش کی جاتی ہے اور چند لمحوں میں بولی کا عمل مکمل ہوجاتا ہے۔
اس عمل میں صارف کے مقام، ڈیوائس، دلچسپیوں اور دیگر ڈیجیٹل معلومات کی بنیاد پر اشتہار منتخب کیا جاسکتا ہے۔ محققین کے مطابق اسی نظام کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرکے مخصوص افراد تک جاسوسی کے لیے تیار کردہ مواد پہنچایا گیا۔
سٹیزن لیب کے محقق وولفی کرسٹل نے خبردار کیا کہ آن لائن اشتہارات کا موجودہ ڈھانچہ صرف صارفین کی پرائیویسی ہی نہیں بلکہ حکومتوں، کاروباری اداروں اور شہری تنظیموں کی ڈیجیٹل سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
تحقیق سامنے آنے کے بعد گوگل نے بتایا کہ اس نے متعلقہ کمپنی کو اپنی اشتہاری خدمات سے ہٹا دیا ہے۔ اسی طرح دیگر اشتہاری پلیٹ فارمز نے بھی کارروائی کی، جبکہ یورپی ڈیجیٹل اشتہاری تنظیم آئی اے بی یورپ نے کمپنی کو منظور شدہ اداروں کی فہرست سے معطل کردیا۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خاص طور پر صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سرکاری عہدیداروں اور حساس معلومات سے وابستہ افراد کو اضافی احتیاط اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حفاظتی اقدامات میں فون اور کمپیوٹر کے سافٹ ویئر کو تازہ ترین رکھنا، اشتہارات کے ذریعے ٹریکنگ محدود کرنا اور قابل اعتماد سیکیورٹی سہولیات استعمال کرنا شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق اشتہارات روکنے والے ٹولز اور موبائل کی ایڈ ٹریکنگ سیٹنگز میں تبدیلی بعض خطرات کم کرسکتی ہے، تاہم کوئی ایک حفاظتی اقدام ہر قسم کے جدید جاسوسی حملے سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا۔
اس تحقیق نے آن لائن اشتہارات کے عالمی نظام میں موجود سیکیورٹی کمزوریوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ محققین کا مطالبہ ہے کہ اشتہاری کمپنیوں، ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور متعلقہ نگران اداروں کو اس نظام کی نگرانی سخت بنانی چاہیے تاکہ عام صارفین کی معلومات اور ڈیوائسز کو خفیہ جاسوسی کے لیے استعمال ہونے سے بچایا جاسکے۔
تصدیق: 15 تا 17 اکتوبر 2026 کی سٹیزن لیب اور کونفیئنٹ کی تحقیقات سے متعلق رپورٹس۔