مواد پر جائیں

کوئٹہ 16°C فجر 5:13 ظہر 12:19 عصر 4:26 مغرب 6:05 عشاء 7:25
آج کا ای پیپر ⁦10⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
ٹیکنالوجی

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نئے تنازع کی زد میں

تین سابق محققین نے حفاظتی خدشات اٹھانے پر ملازمت سے نکالنے کا الزام عائد کردیا، کمپنی نے الزامات مسترد کرتے ہوئے برطرفیوں کی وجہ اعتماد کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دی۔

 

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نئے تنازع کی زد میں

سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی اور اس کے تین سابق حفاظتی محققین کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ ملازمت سے برطرف کیے گئے محققین نے کمپنی کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ انتظامیہ نے ان کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی کے سابق محققین جیسمین وانگ، ٹومیک کورباک اور میکیتا بالیسنی نے ایک مشترکہ خط جاری کیا، جس میں اپنی اچانک برطرفیوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

سابق محققین کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات سے کمپنی کے دیگر ملازمین میں بے یقینی پیدا ہوسکتی ہے اور مصنوعی ذہانت کے حفاظتی خطرات پر کھل کر بات کرنے کا ماحول متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

میکیتا بالیسنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ انہیں کمپنی کے فوری کاروباری مفادات کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت کو ترجیح دینے کی وجہ سے ملازمت سے نکالا گیا۔

دوسری جانب اوپن اے آئی نے سابق ملازمین کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تینوں محققین کو اعتماد کی سنگین خلاف ورزی پر برطرف کیا گیا تھا۔

تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ خلاف ورزی کی نوعیت کیا تھی۔

اوپن اے آئی کے مطابق کمپنی عام طور پر ملازمین کے انفرادی معاملات کو خفیہ رکھتی ہے، لیکن سابق محققین کی جانب سے عوامی سطح پر اٹھائے گئے الزامات کا جواب دینا ضروری سمجھا گیا۔

کمپنی نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ملازمین کو مصنوعی ذہانت کے حفاظتی مسائل کی نشاندہی کرنے یا انتظامیہ کے سامنے تحفظات رکھنے کی وجہ سے برطرف کیا گیا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی حفاظت سے متعلق کھلی اور تنقیدی بحث کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور محض حفاظتی خدشات ظاہر کرنے پر کسی ملازم کو برطرف نہیں کیا جاتا۔

اس تنازع نے مصنوعی ذہانت کی صنعت میں ملازمین کے اظہارِ رائے، حفاظتی تحقیق اور کمپنیوں کے کاروباری مفادات کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔

فی الحال برطرفیوں کی اصل وجوہات کے بارے میں سابق محققین اور کمپنی کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے۔