مواد پر جائیں

کوئٹہ 23°C فجر 5:14 ظہر 12:18 عصر 4:24 مغرب 6:03 عشاء 7:22
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
ٹیکنالوجی

اگلے ایک سال میں سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، بل گیٹس نے خبردار کردیا

مائیکروسافٹ کے شریک بانی کے مطابق مصنوعی ذہانت کے حفاظتی نظام ہٹا کر اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنا بڑا خطرہ ہے، صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نگرانی کافی نہیں

واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال کے باعث آئندہ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں سائبر حملوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے حفاظتی انتظامات ناکافی ہونے کی صورت میں جرائم پیشہ عناصر اسے نقصان دہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

اگلے ایک سال میں سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، بل گیٹس نے خبردار کردیا

امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے فوری خطرات میں سائبر حملے سب سے نمایاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے سال میں اس شعبے میں ایسے واقعات سامنے آسکتے ہیں جن کے لیے موجودہ حفاظتی انتظامات کافی ثابت نہ ہوں۔

بل گیٹس نے واضح کیا کہ فی الحال سب سے بڑا مسئلہ مصنوعی ذہانت کا انسانی قابو سے باہر ہوجانا نہیں بلکہ موجودہ اے آئی نظام کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے مکمل طور پر بے قابو ہونے سے متعلق خدشات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ان کے بڑے اثرات سامنے آنے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض جدید اے آئی ماڈلز میں موجود حفاظتی پابندیاں ہٹائی جاسکتی ہیں۔ اگر ایسے نظام غلط ہاتھوں میں پہنچ جائیں تو ان کے ذریعے سائبر حملوں، ڈیجیٹل دھوکا دہی اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

مائیکروسافٹ کے شریک بانی کے مطابق سائبر جرائم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا خطرہ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس شعبے میں مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے پہلے سے مختلف غیر قانونی طریقے موجود ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر کاروباری اداروں کو دھمکیاں دے کر رقم وصول کرنے یا مالیاتی نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے حیاتیاتی دہشت گردی کے ممکنہ خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے زور دیا کہ جدید اے آئی نظام تک رسائی اور ان کے استعمال کے حوالے سے مؤثر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کو خطرناک مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کی نگرانی مکمل طور پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سپرد کرنے کے تصور سے بھی اختلاف کیا۔ بل گیٹس کے مطابق اتنی طاقتور ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری صرف اسے تیار کرنے والی کمپنیوں پر نہیں چھوڑی جاسکتی۔

ان کا مؤقف تھا کہ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو بھی حفاظتی اصولوں اور نگرانی کے نظام میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے موجودہ اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مزید مضبوط ضابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔

اس سے قبل اگست میں بھی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے معاشی اور سماجی اثرات، خصوصاً روزگار کے شعبے میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں۔

بل گیٹس کا تازہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کے ساتھ ڈیجیٹل تحفظ، معلومات کی حفاظت اور جدید ٹیکنالوجی کی نگرانی سے متعلق بحث بھی جاری ہے۔

تاہم بل گیٹس کی جانب سے آئندہ سال سائبر حملوں میں اضافے کا خدشہ ایک پیش گوئی ہے، کسی مخصوص حملے کی تصدیق یا اس کی تاریخ کا اعلان نہیں۔ ان کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات بھی مضبوط بنانا ہوں گے۔